Urdu book · عظمتِ قرآن

عظمتِ قرآن

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے بقیہ کائنات کا نظام جن اصولوں پر عملاً قائم کر رکھا ہے اسی کے مطابق وہ انسانی زندگی کے نظام کو بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ انسانی معاشرہ کو بھی انہیں ضابطوں میں ڈھل جانا چاہیے جس کا نمونہ کائناتی سطح پر ہر آن دکھایا جا رہا ہے۔ اتحاد و تنظیم قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ خدا کی ایک مقررہ سبیل ہے (6:154)۔ تم اسی سبیل خداوندی پر چلو۔ یہی لفظ قرآن میں شہد کی مکھی کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ کہا گیا ہے کہ خدا نے شہد کی مکھی کو حکم دیا کہ تم سبیل رب پر چلو (16:69)۔ اس سے معلوم ہوا کہ شہد کی مکھی جس طرح کام کرتی ہے وہ خدا کی تسلیم شدہ سبیل ہے۔ اسی سبیل کی نقل انسان کو بھی کرنا ہے۔ شہد کی مکھی کا نظام اجتماعی تنظیم کی آئیڈیل مثال ہے۔ وہ اپنا پورا عمل اعلیٰ درجہ کی متحدہ کاروائی کے ساتھ انجام دیتی ہے۔ قرآن کے مطابق یہ تنظیم اور متحدہ عمل خدا کا منظور شدہ عمل ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی سماجی زندگی میں اسی کو اپنے تمدنی احوال کے مطابق اختیار کرے۔ شہد کی تیاری میں لاکھوں مکھیاں شامل رہتی ہیں مگر وہ نہایت درجہ موافق کے ساتھ سارا کام انجام دیتی ہیں۔ انسان کو اپنی زندگی میں بھی موافقت کا یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page