دخل اندازی نہیں
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
دخل اندازی نہیں قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ سورج کے لیے سزاوار نہیں کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات کے لیے یہ ہے کہ وہ دن سے پہلے آ جائے۔ ہر ایک اپنے مدار (orbit) میں چل رہے ہیں (36:40)۔ اس آیت میں خدا کے ایک قانون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس نے سیاروں اور ستاروں کی دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔ وہ قانون یہ ہے کہ ستارہ یا سیارہ اپنے مدار میں حرکت کرے۔ وہ کسی دوسرے سیارہ کے مدار میں داخل نہ ہو۔ یہ گویا خدا کے پسندیدہ سماجی اصول کی ایک مادی تمثیل ہے۔ خدا ستاروں اور سیاروں کے ذریعہ اس قانون کا مظاہرہ کر رہا ہے جس کو وہ انسان کی زندگی میں شعوری طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔ یعنی یہ کہ ہر آدمی اپنے اپنے دائرہ میں عمل کرے، وہ کبھی دوسرے شخص کے دائرہ میں داخل نہ ہو۔ قرآن کا یہ اصول ایک مغربی ملک کے قصہ میں بہت خوبصورتی کے ساتھ متمثل ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس ملک کو سیاسی آزادی حاصل ہوئی تو ایک شخص خوشی کے ساتھ سڑک پر نکلا۔ وہ اپنا ہاتھ زور زور سے ہلاتا ہوا سڑک پر چل رہا تھا۔ اتنے میں اس کا ہاتھ ایک راہ گیر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ راہ گیر نے غصہ ہو کر کہا کہ تم نے میری ناک پر کیوں مارا۔ آدمی نے جواب دیا کہ آج میرا ملک آزاد ہے۔ اب میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں۔ راہ گیر نے نہایت متانت سے جواب دیا کہ تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں میری ناک شروع ہوتی ہے: Your freedom ends where my nose begins.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader