Urdu book · عظمتِ قرآن

عظمتِ قرآن

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

اس دنیا میں ہر آدمی کے لیے آزاد ہے۔ مگر یہ آزادی لامحدود نہیں ہے۔ ہر آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے محدود دائرہ میں عمل کرے۔ وہ دوسرے کی آزادی میں خلل ڈالے بغیر اپنی آزادی کا استعمال کرے۔ یہ خدائی اخلاقیات کی ایک دفعہ ہے۔ قرآن میں لفظی طور پر اس کا حکم دیا گیا ہے اور آسمان کے ستاروں اور سیاروں کی گردش کو اپنے مدار کا پابند بنا کر اس اخلاقی اصول کا مظاہرہ (demonstration) کیا جا رہا ہے۔ تسلیم و اعتراف قرآن کی ایک آیت اس طرح ہے۔ پھر تمہارے دل سخت ہو گئے۔ تو وہ پتھر کی مانند سخت ہیں یا اس سے بھی زیادہ سخت۔ اور بعض پتھر ایسے ہیں کہ ان سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں۔ اور بعض پتھر ایسے ہیں کہ وہ پھٹ جاتے ہیں پھر ان میں سے پانی نکل آتا ہے۔ اور بعض پتھر وہ ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے (2:74)۔ یہ آیت تمثیلی زبان (symbolic language) میں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پتھر کے بعض اوصاف تمثیل کے روپ میں انسان کے لیے اخلاق کا سبق ہیں۔ پہاڑوں میں پتھروں کے درمیان سے چشمے پھوٹتے ہیں اور ان سے دریا بہہ نکلتے ہیں۔ یہ اس انسانی اخلاق کی تمثیل ہے کہ انسان کو سخت دل نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ جب کوئی سچائی اس کے سامنے آئے تو اس کو قبول کرنے کے لیے اس کا سینہ کھل جائے۔ کوئی انسانیت کا موقع آئے تو اس کا سینہ اس کو محسوس کر کے تڑپ اٹھے۔ جس طرح پہاڑ میں پتھروں کے درمیان پانی کا چشمہ اہل پڑتا ہے اسی طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page