عظمتِ قرآن
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کے دل سے حق کے اعتراف کا چشمہ ابل پڑنا چاہیے۔ اسی طرح پتھروں کا پہاڑ سے گرنا (landslide) اس بات کی تمثیل ہے کہ انسان کے سامنے جب خدا کا حکم آئے تو اس کے سامنے اس کو سر تسلیم خم (surrender) کر دینا چاہیے۔ اس کو سرکشی کے بجائے اعتراف کا انداز اختیار کرنا چاہیے۔ جس طرح پتھر فطرت کے قانون کے آگے گر پڑتے ہیں اسی طرح انسان کو خدا کے قانون کے آگے ہمہ تن جھک جانا چاہیے۔ نرم گفتاری قرآن میں بتایا گیا ہے کہ چڑیاں خدا کی تسبیح پڑھتی ہیں (24:41)۔ دوسری طرف بتایا گیا ہے کہ گدھے کی آواز سب سے بری آواز ہوتی ہے، اس لیے جب تم بات کرو تو گدھے کی طرح مت چیخو بلکہ آہستہ آواز سے بولو (31:19)۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کو وہ آواز پسند ہے جس میں چڑیوں کے چہچہے کی سی مٹھاس ہو خدا کو وہ آواز پسند نہیں جس میں آدمی گدھے کی طرح زور زور سے بولنے لگے اور سننے والے کے لیے سمع خراشی کا باعث ہو۔ انسان کے جسم میں زبان انتہائی قیمتی عضو ہے۔ اسی زبان کے ذریعہ آدمی اپنے خیال کو دوسرے کے سامنے ظاہر کرتا ہے۔ اسی کے ذریعہ دو آدمی باہم تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ تاہم زبان کو استعمال کرنے کی دو مختلف صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی محبت اور خیر خواہی کے جذبے سے بولے۔ وہ جب بولے تو اس لیے بولے کہ وہ دوسروں تک وہ بات پہنچادینا چاہتا ہے جو اس کے نزدیک بہترین بات ہے۔ اس کی زبان ہمیشہ بھلائی کی زبان ہو۔ اسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader