عظمتِ قرآن
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ساتھ اس کا اندازِ کلام سنجیدہ اور معقول ہو۔ وہ جو بات کہے شرافت اور متانت کے ساتھ کہے۔ اس کے بر عکس زبان کے استعمال کی دوسری صورت وہ ہے جس کی ایک مثال گدھے کی صورت میں پائی جاتی ہے یعنی منہ سے ایسی آواز نکالنا جو سننے والوں کو گراں گزرے۔ قرآن کے مطابق آدمی کے اوپر لازم ہے کہ وہ اپنی زبان کو بے معنی شور و غل سے بچائے۔ وہ طنز اور بد گوئی سے پوری طرح بچے۔ وہ اپنی زبان کو ایسے انداز سے استعمال نہ کرے جو سننے والوں کو نا گوار ہو۔ انسان کے بول کو چڑیوں کے چہچہے کی مانند ہونا چاہیے نہ کہ گدھے کی چیخ کی مانند۔ عفو در گزر حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے حضرت یوسف کے ساتھ جو بر اسلوک کیا وہ قدرتی طور پر حضرت یوسف کے والد حضرت ییعقوب کے لیے نہایت تکلیف دہ تھا۔ ان کو برادرانِ یوسف سے شدید شکایت پیدا ہوئی۔ مگر اس شکایت کا غبار انہوں نے برادرانِ یوسف پر نہیں نکالا بلکہ فرمایا کہ میں اپنے رنج و غم کی شکایت صرف اللہ سے کرتا ہوں (یوسف، 12:86)۔ حضرت یعقوب کو غصہ انسان کی طرف سے پیدا ہوا تھا مگر اس کو انہوں نے خدا کی طرف موڑ دیا۔ یہ تحویل (diversion) عین وہی چیز ہے جو مادی دنیا میں نہایت کامیابی کے ساتھ قائم ہے۔ بارش کے موسم میں جو پانی برستا ہے وہ اکثر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اگر اس کی ساری مقدار کھیتوں اور آبادیوں میں رہ جائے تو زبردست نقصان ہو۔ ایسے مواقع پر قدرت یہ کرتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader