Urdu book · عظمتِ قرآن

عظمتِ قرآن

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ پانی کی ضروری مقدار کو کھیتوں اور آبادیوں میں چھوڑ دیتی ہے اور اس کے بعد پانی کی تمام فاضل مقدار کو نالوں اور ندیوں کی طرف موڑ(divert) کر دیتی ہے۔ قدرت کے اسی اصول کو انسان کی اجتماعی زندگی میں بھی اختیار کرنا ہے۔ وہ یہ کہ جذبات کی تمام مضر مقدار کو خدا کی طرف موڑ دیا جائے۔ مختلف انسان جب مل کر رہتے ہیں تو ان کے درمیان بار بار شکایتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک کے اندر دوسرے کے خلاف تلخیاں ابھرتی ہیں۔ یہ شکایتیں اور تلخیاں جس کے خلاف پیدا ہوئی ہیں اگر وہ اسی کے خلاف نکلنے لگیں تو سارا سماج لڑائی جھگڑے کا میدان بن جائے ان حالات میں انسان کو وہی کرنا ہے جو نیوچر کرتی ہے۔ یعنی تمام بڑھے ہوئے جذبات کو خدا کے خانے میں ڈال دینا۔ ایسے تمام معاملات کو خدا کے حوالے کر کے اپنی مثبت تعمیر میں لگ جانا۔ نیوچر ایسے عمل سے یہ سبق دیتی ہے کہ ہر آدمی کے پاس ایک تحویلی حوض (diversion pool) ہونا چاہیے جس میں وہ دوسروں کے خلاف پیدا ہونے والے منفی جذبات کو منتقل کر دیا جائے۔ اور اس طرح اپنے آپ کو اعتدال کی حالت میں باقی رکھے۔۔ برائی کے بدلے بھلائی قرآن میں خدا کے محبوب بندوں کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ جب انھیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں (41:37)۔ پیغمبر اسلام نے اپنے پیروؤں کو یہ حکم دیا کہ جو تم سے برا سلوک کرے تم اس سے اچھا سلوک کرو (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2007)۔ بالفاظ دیگر، آدمی کو دوسروں سے برائی ملے تب بھی وہ دوسروں کو بھلائی لوٹائے۔ اس کو اشتعال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page