Urdu book · عظمتِ قرآن

برائی کے بدلے بھلائی

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

دلایا جائے تب بھی وہ غیر مشتعل رہے۔ یہ اعلیٰ اخلاق عین وہی ہے جس کا تمثیلی نمونہ خدا نے درخت کی صورت میں مادی دنیا کے اندر قائم رکھا ہے، انسان اور درخت دونوں ایک ہی دنیا میں ایک دوسرے کے آس پاس رہتے ہیں۔ انسان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جب سانس لیتا ہے تو وہ فضا سے آکسیجن لے کر اپنے اندر داخل کرتا ہے اور اپنے اندر سے کاربن نکال کر باہر کی طرف خارج کرتا ہے۔ اگر درخت بھی یہی کرے تو ہماری دنیا مضر گیس سے بھر جائے اور رہائش کے ناقابل ہو جائے۔ مگر درخت انسان کے بالکل برعکس معاملہ کرتا ہے۔ درخت باہر کی کاربن لے لیتا ہے اور اپنے اندر سے آکسیجن نکال کر فضا میں شامل کرتا ہے جو انسان اور حیوانات کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ قرآن جس اخلاق کا مطالبہ انسان سے کرتا ہے اس کا ایک ماڈل اس نے درخت کی دنیا میں عملاً قائم کر رکھا ہے۔ یہ اخلاق جو درخت کی دنیا میں مادی سطح پر قائم ہے، اسی کو انسان اپنی زندگی میں شعوری سطح پر اختیار کرتا ہے۔ جو اخلاقی معیار خدا نے بقیہ دنیا میں براہِ راست اپنے زور پر قائم کر رکھا ہے اسی اخلاقی معیار کو انسانی دنیا میں خود انسان کو اپنے ارادہ سے قائم کرنا ہے۔ تاکہ حضرت مسیح کے الفاظ میں، "خدا کی مرضی جس طرح آسمان پر پوری ہوتی ہے اسی طرح زمین پر بھی پوری ہو" (متی، 6:10)۔ وہ اخلاق یہ ہے کہ دوسرے شخص سے اگر آپ کو نفرت ملے تب بھی آپ اس کو محبت لوٹائیں۔ دوسرے سے آپ کو تکلیف پہنچے تو آپ اس کو اپنی طرف سے آرام پہنچانے کی کوشش کریں۔ لوگ آپ کو غصہ دلائیں تو آپ انھیں معاف کردیں۔ لوگ منفی رویہ کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page