Urdu book · عظمتِ قرآن

عظمتِ قرآن

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

مظاہرہ کریں تب بھی آپ مثبت رویہ سے ان کا جواب دیں۔ آپ کا اخلاق یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کاربن دینے والے کو کاربن دیں۔ بلکہ آپ کا اخلاق یہ ہونا چاہیے کہ جو شخص آپ کو کاربن دے اس کو بھی آپ کی طرف سے آکسیجن ملے۔ خلاصہ حقیقت یہ ہے کہ عمل کا جو معیار وسیع تر کائنات میں خدا اپنے براہِ راست کنٹرول کے تحت ظہور میں لا رہا ہے، وہی معیار انسان کو اپنی ذاتی زندگی میں ذاتی کنٹرول کے تحت وجود میں لانا ہے۔ جو واقعہ خدا نے بقیہ دنیا میں مادی سطح پر قائم کر رکھا ہے۔ اسی واقعہ کو انسانی دنیا میں انسان کی سطح پر قائم کرنا ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز لوہا کی شکل میں پائی جاتی ہے وہ انسانی سطح پر پختہ کردار کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز پتھریلی زمین سے چشمہ کی صورت میں بہہ نکلتی ہے وہ انسان سے نرم مزاجی کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز قابلِ پیشین گوئی کردار کی صورت میں پائی جاتی ہے وہ انسانی سطح پر ایفائے عہد (وعدہ پورا کرنا) کی صورت میں مطلوب ہے۔ کائناتی سطح پر جو چیز مہک اور رنگ کی صورت میں پائی جاتی ہے وہ انسانی سطح پر اچھے سلوک اور خوش معاملگی کی صورت میں مطلوب ہے۔ درخت خراب ہوا (کاربن) کو لے لیتا ہے اور اسکے بدلے اچھی ہوا (آکسیجن) ہماری طرف لوٹا دیتا ہے۔ یہی بات انسانی سطح پر اس اصول کی صورت میں مطلوب ہے کہ "جو تمہارے ساتھ برا سلوک کرے اس کے ساتھ تم اچھا سلوک کرو" کائنات میں کوئی چیز کسی دوسرے کی کاٹ میں لگی ہوئی نہیں ہے۔ ہر ایک پوری یکسوئی کے ساتھ اپنا حصہ ادا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page