خلاصہ
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے میں مصروف ہے۔ یہی چیز انسانی سطح پر اس طرح مطلوب ہے کہ وہ ہمیشہ مثبت جدوجہد کرے، منفی نوعیت کی کاروائیوں سے وہ مکمل طور پر پرہیز کرے۔ کائنات میں decompose اور recycle کرنے کا اصول کارفرما ہے۔ فضلات دوبارہ استعمال ہونے کے لیے گیس میں تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ پتی درخت سے گر کر ضائع نہیں ہوتی بلکہ کھاد بن جاتی ہے۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ انسان کی خرچ کی ہوئی دولت دوبارہ انسان کے لیے مفید بنے۔ ایک انسان کی چھٹیری ہوئی جدوجہد دوسرے انسانوں کو اچھے پھل کا تحفہ دے۔ کائنات میں عظیم الشان سطح پر بے شمار کام ہو رہے ہیں۔ ہر جزء انتہائی صحت اور پابندی کے ساتھ اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی میں لگا ہوا ہے۔ مگر کسی کو یہاں کوئی ظاہری بدلہ نہیں ملتا۔ یہی چیز انسان سے اس طرح مطلوب ہے کہ وہ مکمل طور پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں لگارہے۔ بغیر اس کے کہ دنیا میں اس کو اس کے عمل کا کوئی معاوضہ ملنے والا ہو۔ اونچا پہاڑ اور تمام کھڑی ہوئی چیزیں اپنا سایہ زمین پر ڈال دیتی ہیں۔ یہی چیز انسانی زندگی میں اس طرح مطلوب ہے کہ ہر آدمی تواضع کا طریقہ اختیار کرے۔ کوئی شخص کسی کے اوپر فخر نہ کرے۔ کوئی شخص دوسرے کے مقابلہ میں اپنے کو بڑا نہ سمجھے۔ اسلامی اخلاق حقیقتاً کائناتی اخلاق کا دوسرا نام ہے، کائنات کی سطح پر یہ اخلاقی معیار شعور کے بغیر قائم ہے۔ اور انسان کی سطح پر یہ اخلاقی معیار شعور کے تحت خود اپنے ارادے سے قائم ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader