عظمتِ قرآن
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
میں دیدیں۔ یہی واحد فطری نظریہ ہے جو فکری تضاد سے پاک ہے۔ دوسرا کوئی بھی نظریہ فکری تضاد سے خالی نہیں ہو سکتا۔ تضاد کی دو قسمیں قرآن کی مذکورہ آیت (4:82) میں جس تضاد یا مطابقت کا ذکر کیا گیا ہے، اس کے دو خاص پہلو ہیں، ایک داخلی اور دوسرا خارجی۔ داخلی غیر مطابقت یہ ہے کہ کتاب کا ایک بیان کتاب کے دوسرے بیان سے ٹکرا رہا ہو ۔ خارجی غیر مطابقت یہ ہے کہ کتاب کا بیان خارجی دنیا کے حقائق سے ٹکرا جائے۔ قرآن کا دعویٰ ہے کہ وہ ان دونوں قسم کے تضادات سے خالی ہے۔ جب کہ کوئی بھی انسانی تصنیف ان سے خالی نہیں ہو سکتی۔ یہی واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن غیر انسانی ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے۔ اگر وہ ایک انسانی کلام ہوتا تو یقیناً اس کے اندر بھی وہی کمی پائی جاتی جو تمام انسانی کلام میں غیر استثنائی طور پر پائی جاتی ہے۔ داخلی تضاد کلام میں داخلی تضاد حقیقتاً متکلم کی شخصیت میں داخلی کمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ داخلی تضاد سے بچنے کے لیے دو چیزیں لازمی طور پر ضروری ہیں، ایک کامل علم اور دوسرے کامل موضوعیت (objectivity)۔ کوئی انسان ان دونوں کمیوں سے خالی نہیں ہوتا۔ اس لیے انسان کا کلام داخلی تضاد سے پاک بھی نہیں ہوتا۔ یہ صرف خدا ہے جو تمام کمیوں سے پاک ہے۔ اس لیے صرف خدا کا کلام ہی وہ کلام ہے جو داخلی تضاد سے پوری طرح خالی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader