فکری انقلاب
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ عین وہی بات ہے جو خود قرآن کی رو سے ہمارا اہم ترین اجتماعی فریضہ قرار پاتی ہے۔ قرآن میں دو مقام پر (8:39 ; 2:193) یہ حکم دیا گیا ہے۔ سورہ البقرہ میں یہ الفاظ ہیں: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ (2:193)۔ اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر کی تشریح سے معلوم ہوتا ہے، اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک جارح ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ اس وقت اسلام تھوڑا تھا۔ چنانچہ جب کوئی شخص دین توحید کو اختیار کرتا تو اہل شرک اسے ستاتے۔ کسی کو وہ قتل کر دیتے، کسی کو زنجیروں میں باندھتے اور کسی کو عذاب دیتے۔ یہاں تک کہ اسلام کی کثرت ہو گئی اور یہ صورت حال باقی نہ رہی کہ عقیدہ توحید کی بنا پر کسی کو ستایا جائے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4650)۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں فتنہ سے وہی چیز مراد ہے جس کو ایذارسانی (persecution) کہا جاتا ہے۔ یعنی مختلف عقیدہ رکھنے کی بنا پر کسی کو ستانا۔ قدیم زمانہ میں شرک کو غلبہ حاصل تھا۔ چنانچہ اہل شرک ہزاروں سال تک یہ کرتے رہے کہ وہ توحید کا عقیدہ رکھنے والوں کو ستاتے: وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ (85:8)۔ اور ان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ ایمان لائے اللہ پر جو زبردست ہے، تعریف والا ہے۔ پیغمبر آخرالزماں کا مشن جس کو آپ نے اپنی زندگی میں مکمل فرمایا، وہ یہ تھا کہ آپ مذہبی جبر کے ماحول کو ختم کر دیں۔ وہ شرک کے عمومی غلبہ کو ہمیشہ کے لیے مٹادیں۔ تاکہ خدا کے بندوں کے لیے توحید کا عقیدہ اختیار کرنے میں جو چیز رکاوٹ بن رہی ہے وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader