Urdu book · عظمتِ قرآن

فکری انقلاب

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اسی لیے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارے میں فرمایا: وَأَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ ( صحيح البخاري حدیث نمبر 4880)۔ میں احمد، میں مٹانے والا ہوں، میرے ذریعہ سے اللہ کفر کو مٹائے گا۔ موجودہ زمانہ میں شرک کی جارحانہ حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ مگر غور کیجئے تو اصل صورت حال دوبارہ ایک نئی شکل میں لوٹ آئی ہے۔ آج دوبارہ انسان کے لیے دین توحید اختیار کرنے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔ مگر آج دین سے روکنے والا عنصر اپنا کام فکری طاقت کے زور پر کر رہا ہے، نہ کہ شمشیری طاقت کے زور پر۔ آج کا فتنہ جدید ملحدانہ افکار کا فتنہ ہے۔ جو کام قدیم زمانہ میں شرک کرتا تھا وہ آج ملحدانہ افکار انجام دے رہے ہیں۔ آج کی دنیا میں ایسے افکار غالب آ گئے ہیں جو خدا کے وجود کو مشتبہ قرار دیتے ہیں۔ جو وحی والہام کو فرضی بتاتے ہیں، جو آخرت کو بے بنیاد ثابت کر رہے ہیں۔ اس طرح یہ افکار دین توحید کو اختیار کرنے میں مانع بنے ہوئے ہیں۔ آج کا فتنہ یہ ہے کہ خود سوچنے کے انداز کو بنیادی طور پر بدل دیا گیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کا انسان یا تو منکر بن گیا ہے یا وہ کم از کم متشلک (agnostic) ہے۔ یہ ایک قسم کا فکری حملہ (intellectual invasion) ہے۔ ہم کو اس حملہ کا مقابلہ کرنا ہے۔ اب ہمیں دوبارہ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (8:39) پر عمل کرنا ہے۔ یعنی ان سے مقابلہ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ مگر یہ عمل شمشیر کے ذریعہ نہیں ہوگا، بلکہ افکار کی طاقت کے ذریعہ ہوگا۔ ملحدانہ افکار کا جواب ہمیں توحیدی افکار سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page