فکری انقلاب
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
توحید کا اثبات نکل رہا تھا، ان کو دین الحاد کی دلیل بنا دیا۔ اس کی ایک واضح مثال ارتقاء کا نظریہ ہے، جس نے موجودہ زمانے میں ملحدانہ فکر پیدا کرنے میں سب سے زیادہ اہم رول ادا کیا ہے۔ زمینی طبقَات کے مطالعہ کے دوران انسان کے علم میں یہ بات آئی کہ قدیم زمانہ کے حیوانات کے ڈھانچے مخصوص کیمیائی عمل کے نتیجہ میں پتھر کی صورت اختیار کر گئے ہیں۔ زمین کی کھدائی سے اس قسم کے بہت سے متحر نمونے (fossils) جمع کیے گئے ۔ ان پر ریڈیو ایکٹیوڈیٹنگ کا طریقہ استعمال کیا گیا تو تقریباً صحت کے ساتھ ان کی تاریخیں معلوم ہو گئیں۔ یہ تحقیقات سو سال سے بھی زیادہ لمبے عرصے تک جاری ہیں۔ یہاں تک کہ انسان اس پوزیشن میں ہو گیا کہ مختلف انواع حیات کے درمیان تاریخ کے اعتبار سے ترتیب قائم کر سکے۔ اس تاریخی ترتیب سے معلوم ہوا کہ وہ تمام مختلف انواع حیات جو آج زمین پر بظاہر ایک وقت نظر آرہی ہیں وہ سب زمین پر بیک وقت موجود نہیں ہو گئیں، بلکہ زمین پر ان کے ظہور میں ایک تاریخی ترتیب ہے، وہ یہ کہ سادہ انواع حیات سب سے پہلے ظہور میں آئیں۔ اس کے بعد بتدریج زیادہ پے چیدہ انواع حیات ظہور میں آتی رہیں۔ یہاں تک کہ بالآخر انسان ظاہر ہو گیا۔ اس طرح واحد الخلیہ جاندار (single cellular animal) زمین پر وجود میں آئے۔ اور انسان اس حیاتیاتی ترتیب کے سب سے آخر میں ظاہر ہوا۔ نظریہ ارتقاء کی عمارت جن مشاہدات پر قائم کی گئی ہے ۔ ان سب سے اہم مشاہدہ یہی ہے۔ نظریہ ارتقاء کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ترتیب بتاتی ہے کہ زندگی کی مختلف قسمیں ارتقائی عمل کے ذریعہ ظہور میں آئیں، یعنی زندگی کا ہر اگلا فارم اپنے پچھلے فارم سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader