فکری انقلاب
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
نکلتا رہا۔ یہ ترقی ہر اگلی نسل میں جمع ہوتی رہی یہاں تک کہ اس کے آخری مجموعہ نے وہ اعلیٰ صورت اختیار کرلی جس کو انسان کہا جاتا ہے۔ مگر یہ سراسر غلط تعبیر کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی حقیقی استدلال کا نتیجہ۔ خالص علمی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جو بات مشاہدہ میں آئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ زمین پر انواع حیات کی موجودگی میں ایک زمانی ترتیب پائی جاتی ہے، نہ کہ انواع حیات ایک دوسرے کے بطن سے بطریق تناسل پیدا ہوتی چلی گئی ہیں۔ اصل مشاہدہ صرف تخلیق کی زمانی ترتیب کو بتا رہا تھا مگر غلط تعبیر کے ذریعہ اس کو زندگی کے ارتقائی ظہور کے ہم معنی بنا دیا گیا۔ ارتقاء کے مشاہدات خالق (Creator) کی تردید نہیں کرتے، جیسا کہ خود چارلس ڈارون نے اپنی کتاب "اصل الانواع" میں تسلیم کیا ہے۔ بلکہ اگر یہ مشاہدات درست ہوں، تو وہ خالق کے تخلیقی عمل کی ترتیب کو بتاتے ہیں۔ یہ مختصر جائزہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام کے احیاء کی راہ کا پہلا بنیادی کام اسلام کا فکری غلبہ ہے۔ مزید یہ کہ یہ فکری غلبہ بظاہر دشوار ہونے کے باوجود انتہائی آسان ہے۔ اسلام کی پچھلی تاریخ میں اس سے ملتی جلتی مثالیں اس کے ثبوت کے لیے کافی ہیں۔ رسول کے زمانے میں عرب کے لوگ اسلام کے نہایت سخت دشمن کے روپ میں ظاہر ہوئے مگر صرف ربع صدی کی دعوتی جدوجہد نے بتایا کہ اس طاقت وردشمن کے اندر طاقتور مددگار کی شخصیت چھپی ہوئی تھی۔ اس طرح ساتویں صدی ہجری میں تارتاری قبائل اسلام کے خلاف ناقابل تسخیر قوت بن کر ابھرے۔ مگر ایک صدی سے بھی کم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader