Urdu book · عظمتِ قرآن

عظمتِ قرآن

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت کی اصل نوعیت آدمی کے سامنے نہ ہو تو وہ دعوت کے نام پر ایک ایسا کام کرے گا جس کا دعوت سے کوئی تعلق نہیں۔ عالمی فضا کی تبدیلی اس سلسلے میں پہلی بات جس کو جاننا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ وہ کون سے حالات ہیں جن کے درمیان ہم کو دعوت حق کا کام انجام دینا ہے۔ مختصر لفظوں میں اس کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے اسلاف کے لیے دعوت الی اللہ کا مطلب دور شرک کو ختم کرنا تھا۔ اب ہمارے لیے دعوت الی اللہ کا مطلب دور الحاد کو ختم کرنا ہے۔ ہمارے اسلاف دور شرک کو ختم کرکے دور توحید لے آئے۔ اس کے بعد دنیا میں ایک نئی تاریخ وجود میں آئی۔ یہ تاریخ ہزار سال تک کامیابی کے ساتھ چلتی رہی۔ یہاں تک کہ سولہویں صدی عیسوی میں مغربی سائنس کا ظہور ہوا۔ اس کے بعد دنیا کی ایک نئی تاریخ بننا شروع ہوئی۔ بیسویں صدی میں آکر یہ تاریخ اپنے کمال پر پہنچ گئی ہے۔ اب دوبارہ یہ حال ہو گیا ہے کہ ظہور اسلام سے پہلے جس طرح فکر و عمل کے تمام شعبوں پر شرک کا غلبہ تھا، اسی طرح اب فکر و عمل کے تمام شعبوں پر الحاد کا غلبہ ہو چکا ہے۔ حتیٰ کہ آج مذہب بھی علمی طور پر الحاد کا ضمیمہ بن چکا ہے۔ اس سے الگ اس کی کوئی مستقل حیثیت نہیں۔ یہاں ایک لطیفہ قابل ذکر ہے موجودہ زمانے میں مذہب کی صورت کو بہت اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ جرمن مفکر ای، ایف، شوماخر (1977-1911) نے اپنا ایک واقعہ ان الفاظ میں نقل کیا ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page