عظمتِ قرآن
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان اپنی محدودیت کی وجہ سے بہت سی باتوں کو اپنی عقل کی گرفت میں نہیں لاسکتا۔ اس لیے قیاسی طور پر کبھی وہ ایک بات کہتا ہے اور کبھی دوسری بات۔ ہر انسان کا یہ حال ہے کہ وہ نابختہ عمر سے پختہ عمر کی طرف سفر کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ناپختہ عمر میں جو بات کہتا ہے، پختہ عمر کو پہنچ کر وہ خود اس کے خلاف بولنے لگتا ہے۔ ہر آدمی کا علم اور تجربہ بڑھتا رہتا ہے اس بنا پر اس کا ابتدائی کلام کچھ ہو جاتا ہے اور آخری کلام کچھ۔ انسان کی عمر بہت تھوڑی ہے۔ اس کی واقفیت ابھی مکمل نہیں ہوتی کہ اس کی موت آ جاتی ہے۔ وہ اپنی نامکمل واقفیت کی بنا پر ایسی بات کہتا ہے جو اس کے بعد درست ثابت نہیں ہوتی۔ اسی طرح آدمی کو کسی سے دوستی ہوتی ہے اور کسی سے دشمنی۔ وہ کسی سے محبت کرتا ہے اور کسی سے نفرت۔ وہ کسی کے بارے میں سادہ ذہن کے تحت سوچتا ہے اور کسی کے بارے میں رد عمل کی نفسیات کا شکار ہو جاتا ہے۔ انسان پر کبھی غم کا لمحہ گزرتا ہے اور کبھی خوشی کا۔ وہ کبھی ایک ترنگ (emotion) میں ہوتا ہے اور کبھی دوسری ترنگ میں۔ اس بنا پر انسان کے کلام میں یکسانیت نہیں ہوتی۔ وہ کبھی ایک طرح کی بات کہتا ہے اور کبھی دوسری طرح کی بات بولنے لگتا ہے۔ خدا ان تمام کمیوں سے پاک ہے اس لیے اس کا کلام ہمیشہ یکساں ہوتا ہے اور ہر قسم کے تناقض سے خالی بھی۔ حضرت مسیح کی شخصیت مثال کے طور پر بائبل کو لیجیے۔ بائبل اپنی ابتدائی حالت میں خدا کا کلام تھی۔ مگر بعد کو اس میں انسانی ملاوٹ ہوئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس میں کثرت سے داخلی تضادات پیدا ہو گئے، بائبل کا وہ حصہ جس کو انجیل یا نیا عہد نامہ کہا جاتا ہے اس میں حضرت مسیح علیہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader