عالمی فضا کی تبدیلی
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
قابل ہو سکے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ توحید اور آخرت کی بات آدمی کی سمجھ میں آئے اور اس کو وہ حقیقت سمجھ کر قبول کر سکے۔ ہمارے اسلاف نے انسانی فکر کی دنیا میں شاکلۂ شرک کو توڑ کر شاکلۂ توحید کو قائم کیا تھا۔ اب ہم کو دوبارہ شاکلۂ الحاد کو توڑ کر شاکلۂ توحید پر انسانی فکر کا نظام قائم کرنا ہے۔ دعوت کے مسئلہ کا اس سے کم تصور دعوت کے مسئلہ کی تصغیر (underestimation) ہے، جس کی کوئی قیمت نہ بندوں کے نزدیک ہے اور نہ خدا کے نزدیک۔ داعی اور مدعو کا تعلق دوسرا اہم مسئلہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ بحال کرنا ہے۔ امت مسلمہ کی حیثیت سے مسلمان خدا کے دین کے داعی ہیں اور بقیہ تمام قومیں ان کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے سب سے بڑی غلطی یہ کی ہے کہ انھوں نے دوسری قوموں کو اپنا قومی حریف اور مادی رقیب بنا لیا ہے۔ ان قوموں سے وہ ساری دنیا میں معاشی اور سیاسی جھگڑے چھیڑے ہوئے ہیں۔ قرآن میں داعی کا کلمہ لَّا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً (11:51) بتایا گیا ہے، یعنی میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ ایسی حالت میں حقوق طلبی کے یہ تمام ہنگامے اپنی دعوتی حیثیت کی نفی کے ہم معنی ہیں۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے یہاں ہم کو خدا کے گواہ کا مقام حاصل ہو تو ہم کو یہ قربانی دینی ہوگی کہ دوسری اقوام سے ہمارے دنیوی جھگڑے، خواہ وہ بظاہر درست کیوں نہ ہوں، ان کو ہم یک طرفہ طور پر ختم کردیں۔ تاکہ ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader