داعی اور مدعو کے تعلقات
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
داعی اور مدعو کارشتہ قائم ہو، ہمارے اور دوسری قوموں کے درمیان وہ معتدل فضا وجود میں آئے جس میں ان کے سامنے توحید اور آخرت کی دعوت پیش کی جائے اور وہ سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کر سکیں۔ صلح حدیبیہ (6ھ) میں مسلمانوں نے یک طرفہ طور پر مخالفین اسلام کے تمام معاشی اور قومی مطالبات مان لیے تھے۔ انھوں نے اپنے حقوق سے دستبرداری پر خود اپنے ہاتھ سے دستخط کر دیے تھے۔ مگر جب مسلمان یہ معاہدہ کر کے لوٹے تو خدا کی طرف سے یہ آیت اتری - إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا (48:1)۔ بیشک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی۔ بظاہر شکست کے معاہدے کو خدا نے فتح کا معاہدہ کیوں کہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس معاہدہ نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان مقابلے کے میدان کو بدل دیا تھا۔ اب اسلام اور غیر اسلام کا مقابلہ ایک ایسے میدان میں منتقل ہو گیا تھا جہاں اسلام واضح طور پر زیادہ بہتر حیثیت (advantage position) میں تھا۔ غیر مسلموں کی جارحیت کی وجہ سے اس وقت اسلام اور غیر اسلام کا مقابلہ جنگ کے میدان میں ہو رہا تھا۔ غیر مسلموں کے پاس ہر قسم کے زیادہ بہتر جنگی وسائل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے بعد مسلسل غزوات کے باوجود معاملہ کا فیصلہ نہیں ہو رہا تھا۔ اب حدیبیہ میں غیر مسلموں کے تمام قومی مطالبات مان کر ان سے یہ عہد لے لیا گیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان دس سال تک براہ راست یا بالواسطہ کوئی جنگ نہیں ہوگی۔ مسلسل جنگی حالات کی وجہ سے اسلام کا دعوتی کام رکا ہوا تھا۔ جنگ بند ہوتے ہی دعوت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader