Urdu book · عظمتِ قرآن

موافق امکانات

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

موافق امکانات دعوت دین کا کام انتہائی مشکل کام ہے۔ مگر اللہ نے اپنی خصوصی رحمت سے اس کو ہمارے لیے آسان بنا دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسانی تاریخ میں ایسی تبدیلیاں کیں جس نے ہمارے لیے نئے مواقع کھول دیے ۔ موجودہ زمانے میں یہ تاریخی عمل اپنی آخری حد تک پہنچ گیا ہے۔ حتیٰ کہ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ جو کام پہلے "خون" کے ذریعے کرنا پڑتا تھا، اس کو اب قلم کی سیاہی کے ذریعے انجام دیا جاسکے۔ اس عمل تیسر کے تین خاص پہلو ہیں جن کی طرف قرآن میں اشارے کیے گئے ہیں: 1۔ قرآن میں اہل ایمان کو یہ دعا تلقین کی گئی : رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا (2:286)۔ خدایا، ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پچھلی امتوں پر ڈالا تھا۔ اگر الفاظ بدل کر اس آیت کی تفسیر کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دعوت توحید کا جو کام پچھلے داعیوں کو پابندی رائے کے ماحول میں کرنا پڑتا تھا، لیکن ہمیں آزادی رائے کے ماحول میں کرنے کا موقع عطا فرما۔ پہلے زمانہ میں یہ صورت حال تھی کہ توحید کا اعلان کرنے والے کو پتھر مارے جاتے۔ اس کو آگ میں ڈال دیا جاتا۔ اس کے جسم کو آرے سے چیر دیا جاتا، اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلے زمانہ میں حکومت کی بنیاد شرک پر قائم تھی۔ پچھلے زمانہ کے بادشاہ مفروضہ دیوتاؤں کے نمائندہ بن کر حکومت کرتے تھے۔ اس لیے جب کوئی شخص شرک کو بے بنیاد قرار دیتا تو اس زمانہ کے بادشاہوں کو محسوس ہوتا کہ وہ نظریاتی بنیاد ختم ہو رہی ہے جس پر انھوں نے اپنی حکومت کو قائم کر رکھا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page