Urdu book · عظمتِ قرآن

موافق امکانات

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جو انقلاب آیا اس نے شرک کی اجتماعی حیثیت کو ختم کر کے اس کو ایک ذاتی عقیدہ بنا دیا۔ اب شرک الگ ہو گیا اور سیاسی ادارہ الگ۔ اس طرح وہ دور ختم ہو گیا جب کہ شرک لو گوں کے لیے اعلان توحید کی راہ میں رکاوٹ بن سکے ۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے ۔ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) ۔ اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے ۔ اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ اسلام نے جب توہم پرستی اور شخصی تقدس کا خاتمہ کیا تو نسلی بادشاہت کی بنیادیں بھی ہل گئیں۔ چنانچہ انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا جو بالآخر یورپ پہنچ کر جمہوریت (democracy) کی صورت میں مکمل ہوا ۔ اس کے بعد شخصی حاکمیت کے بجائے عوامی حاکمیت کا اصول دنیا میں رائج ہوا اور آزادی رائے کو ہر آدمی کا مقدس حق تسلیم کر لیا گیا۔ اس عالمی فکری انقلاب نے داعیان حق کے لیے یہ عظیم امکان کھول دیا کہ وہ غیر ضروری رکاوٹوں سے بے خوف ہو کر ساری دنیا میں حق کے اعلان کا کام انجام دے سکیں۔ 2 ۔ قرآن میں یہ اعلان کیا گیا: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) ۔ ہم عنقریب آفاق میں اور انفس میں ایسی نشانیاں دکھائیں گے جس سے کھل جائے کہ یہ سراسر حق ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اس انقلاب کی طرف اشارہ ہے جس کو جدید سائنسنی انقلاب کہا جاتا ہے۔ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی دلیل ہے۔ تمام مخلوقات اپنے خالق کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page