Urdu book · عظمتِ قرآن

ابدی صداقت

Urdu book, p. 204

By Maulana Wahiduddin Khan

ابدی صداقت حضرت موسی 15 ویں صدی قبل مسیح میں مصر میں پیدا ہوئے۔ ان کو خدا نے اپنا پیغمبر مقرر کیا۔ اس وقت مصر میں ایک مشرک خاندان کی حکومت تھی جو اپنے آپ کو فراعنہ کہتے تھے۔ حضرت موسیٰ کا سابقہ اس خاندان کے دو بادشاہوں سے پیش آیا۔ ایک وہ جس کو خدا نے بچپن میں آپ کی پرورش کا ذریعہ بنایا۔ دوسرا وہ جس سے آپ کا مقابلہ پیش آیا۔ حضرت موسیٰ نے جب فرعون مصر کے سامنے حق کا پیغام پیش کیا تو وہ آپ کا مخالف ہو گیا۔ حضرت موسیٰ نے عصا کے سانپ بن جانے کا معجزہ دکھایا تو اس نے کہا کہ یہ جادو ہے اور ایسا جادو ہم بھی دکھا سکتے ہیں۔ فرعون نے حکم دیا کہ اگلے قومی میلہ کے موقع پر مصر کے تمام جادو گروں کو اکٹھا کیا جائے۔ وہ اپنے جادو کے کمالات دکھا کر موسیٰ کے معجزے کو باطل ثابت کریں۔ چنانچہ مقرر وقت پر ملک کے تمام جادو گر اکٹھا ہو گئے۔ حضرت موسیٰ جب میدان میں آئے تو اس وقت انہوں نے ایک تقریر کی۔ اس تقریر کا ایک حصہ یہ تھا: قَالَ مُوْسٰی مَا جِئْتُمُ بِهِ السّحْرُاِنَّ اللهَ سَيُبْطِلُهُ اِنَّ اللهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ وَيُحِقُّ اللهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ (10:81-82)۔ موسیٰ نے جادو گروں سے کہا کہ جو کچھ تم لائے ہو وہ جادو ہے۔ اللہ اس کو یقیناً باطل کر دے گا۔ بیشک اللہ مفسدین کے کام بننے نہیں دیتا۔ اور اللہ اپنے کلمات سے حق کو حق ثابت کر دیتا ہے، اگرچہ مجرم لوگوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ حضرت موسیٰ نے اس وقت جو کچھ کہا وہ دراصل پیغمبر کی زبان سے خدا کے ابدی فیصلہ کا اعلان تھا۔ موجودہ دنیا میں امتحان کی آزادی ہے۔ اس لیے یہاں ہر باطل کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page