ابدی صداقت
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
ابھرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مگر یہ ابھار ہمیشہ وقتی اور عارضی ہوتا ہے دنیا کا نظام اتنا کامل اور معیاری ہے کہ وہ زیادہ دیر تک باطل کو قبول نہیں کرتا۔ وہ ہر خلافِ حق بات کو ایک عرصہ کے بعد رد کر دیتا ہے۔ اور بالآخر جو چیز باقی رہتی ہے وہ وہی ہوتی ہے جو حق ہے۔ خدا کے اس قانون کا ظہور پچھلے زمانے میں بھی ہوا اور موجودہ زمانے میں بھی ہو رہا ہے۔ حضرت موسیٰ کے زمانے میں معجزہ کے ذریعہ جادو گروں کے جادو کو باطل ثابت کیا گیا تھا۔ پچھلے زمانوں میں یہ واقعہ بار بار ایک یا دوسری شکل میں پیش آتا رہا ہے۔ موجودہ زمانے میں خود علم انسانی کے ذریعہ خدا نے اس مقصد کو حاصل کیا ہے۔ نزولِ قرآن کے بعد کے دور میں اس سلسلہ میں جو کچھ ہونے والا تھا اس کا ذکر قرآن کی مندرجہ ذیل آیت میں ہے : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (41:53)۔ ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ (قرآن) حق ہے۔ کیا تمھارے رب کی یہ بات کافی نہیں کہ وہ ہر چیز کا شاہد ہے۔ مفسر ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے : سَنُظْهِرُ لَهُمْ دَلَالَاتِنَا وَحُجَجَنَا عَلَى كَوْنِ الْقُرْآنِ حقا منزلا من عند اللَّهِ عَلَى رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم بِدَلَائِلَ خَارِجِيَّةٍ ( تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 187)۔ عنقریب ہم قرآن کے حق اور اللہ کی طرف سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ ہونے کو خارجی دلائل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader