حضرت مسیح کی شخصیت
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
کارل مارکس کا فکری تضاد یہ مذہبی کلام میں داخلی تضاد کی مثال تھی۔ اب غیر مذہبی کلام میں داخلی تضاد کی مثال لیجئے۔ یہاں میں کارل مارکس کا حوالہ دوں گا۔ موجودہ زمانے میں کارل مارکس کی ذہنی عظمت کا حال یہ ہے کہ امریکی پروفیسر جان گال بریتھ نے مارکس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: If we agree that the Bible is a work of collective authorship, only Mohammad rivals Marx in the number of prefessed and devoted followers recruited by a single author. And the competition is not really very close. The followers of Marx now far outnumber the sons of the Prophet. Jhon Kenneth Galbraith, The Age of Uncertainty, BBC, London, p. 77. اگر ہم یہ مان لیں کہ بائبل کئی اشخاص کی مشترکہ تصنیف ہے تو صرف محمد وہ دوسرے واحد مصنف ہیں جو معتقدین اور پیروؤں کی تعداد کے اعتبار سے مارکس کی برابری کر سکتے ہیں۔ پھر مقابلہ زیادہ قریب قریب کا نہیں۔ مارکس کے پیروؤں کی تعداد آج پیغمبر کے پیروؤں کی تعداد سے بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ مگر ساری مقبولیت کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ مارکس کا کلام داخلی تضاد کا شاہکار ہے۔ مارکس کے فکر میں اتنے زیادہ تضادات پائے جاتے ہیں کہ اس کے خیالات کو مجموعہ اضداد کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ مثال کے طور پر مارکس نے دنیا کی تمام خرابیوں کا سبب سماج میں طبقات کا ہونا بتایا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader