Urdu book · عظمتِ قرآن

حضرت مسیح کی شخصیت

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ یہ طبقات اس کے نزدیک انفرادی ملکیت کے نظام کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک طبقہ (بورژوا یا سرمایہ دار) ذرائع پیداوار قابض ہو کر دوسرے طبقہ (محنت کش طبقہ) کو لوٹتا ہے۔ اس کا حل مارکس نے یہ تجویز کیا کہ سرمایہ دار طبقہ سے اس کی ملکیتیں چھین لی جائیں اور ان کو مزدور طبقہ کے زیر انتظام دیدیا جائے۔ اس کاروائی کو وہ بے طبقاتی سماج (Classless Society) قائم کرنے کا نام دیتا ہے۔ مگر یہ کھلی ہوئی تضاد فکری ہے۔ کیونکہ مذکورہ کاروائی سے جو چیز وقوع میں آئے گی وہ بے طبقاتی سماج نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ معاشی ذرائع پر ایک طبقہ کا قبضہ ختم ہو کر دوسرے طبقہ کا قبضہ شروع ہو جائے۔ یہ طبقات کا خاتمہ نہیں بلکہ صرف طبقات کی تبدیلی ہے، اس فرق کے ساتھ کہ پہلے یہ قبضہ ملکیت کے نام پر تھا اور اب یہ قبضہ انتظام کے نام پر ہوگا۔ وہ چیز جس کو مارکس بے طبقاتی سماج کہتا ہے وہ عملاً سرمایہ دار طبقہ کی ملکیت کو ختم کر کے کمیونسٹ طبقہ کی ملکیت قائم کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ مارکس ایک ہی چیز کو ایک جگہ برائی کہتا ہے اور دوسری جگہ بھلائی۔ مگر سرمایہ داروں کے خلاف شدید نفرت اور تعصب کی وجہ سے اس کو اپنا یہ فکری تضاد دکھائی نہیں دیا۔ وہ ذرائع معاش کو سرمایہ داروں کے بجائے عہدیداروں کے قبضہ میں دے رہا تھا۔ مگر اپنے متعصبانہ اندھے پن کی وجہ سے وہ اپنے اس تضاد کو محسوس نہ کر سکا۔ ایک نوعیت کے دو واقعات میں سے ایک واقعہ کو اس نے انفرادی لوٹ کہا اور دوسرے کو اجتماعی تنظیم۔ قرآن اس قسم کے داخلی تضاد سے مکمل طور پر خالی ہے۔ اس کا کوئی بیان اس کے دوسرے بیان سے نہیں ٹکراتا۔ قرآن کے تمام بیانات میں کامل قسم کی داخلی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page