Urdu book · عظمتِ قرآن

عظمتِ قرآن

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ اور انسان کی معلومات کا دائرہ چونکہ محدود ہے۔ اس لیے اس کی زبان یا قلم سے ایسی باتیں نکلتی رہتی ہیں جو خارجی صورت حال سے مطابقت نہ رکھتی ہوں۔ یہاں ہم چند تقابلی مثالیں بیان کریں گے۔ قانونِ فطرت کی مثال قدیم عرب میں ایک رواج یہ تھا کہ بعض اوقات کوئی شخص اپنی اولاد کو اس اندیشے سے قتل کر دیتا تھا کہ افرادِ خاندان زیادہ ہو جائیں گے تو ان کے لیے کھانے پینے کا انتظام نہ ہو سکے گا۔ اس سلسلے میں قرآن میں یہ حکم اترا: وَلَا تَقْتُلُوۡا اَوۡلَادَکُمۡ خَشۡیَۃَ اِمۡلَاقٍ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُھُمۡ وَاِیَّاکُمۡ ؕ اِنَّ قَتۡلَہُمۡ کَانَ خِطۡأً کَبِیۡرًا (17:31)۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشے سے قتل نہ کرو، ہم ان کو بھی روزی دیں گے اور تم کو بھی۔ بے شک ان کو مار ڈالنا ایک بڑی غلطی ہے۔ یہ اعلان گویا ایک قسم کا دعویٰ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مستقبل میں آبادی کا کوئی بھی اضافہ زمین پر رزق کی تنگی کا مسئلہ پیدا نہیں کرے گا۔ انسانی تعداد کے مقابلے میں غذائی اشیاء کا تناسب ہمیشہ موافق طور پر برقرار رہے گا جس طرح آج سب کو ان کی روزی مل رہی ہے اسی طرح آئندہ بھی سب کو ان کی روزی ملتی رہے گی۔ مسلمان ہر دور میں اعتقادی طور پر اس اعلان کی صداقت کو مانتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں کبھی وہ ذہن پیدا نہیں ہوا جس کو موجودہ زمانے میں تحدیدِ نسل یا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page