قانونِ فطرت کی مثال
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
جائے۔ ورنہ بہت جلد ایسا ہو گا کہ آبادی اور غذائی اشیاء میں غیر متناسب اضافہ کی وجہ سے فاقہ کا دور شروع ہو جائے گا اور بے شمار انسان بھوک سے مرنے لگیں گے۔ مالتھس کی اس کتاب نے دنیا کی فکر پر زبردست اثر ڈالا۔ اس کی تائید میں بے شمار لکھنے اور بولنے والے پیدا ہو گئے۔ یہاں تک کہ ساری دنیا میں برتھ کنٹرول اور فیملی پلاننگ کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ مگر اب محققین اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اس کا اندازہ سراسر غلط تھا ۔ مسٹر گوائن ڈائر (Gwynne Dyer) نے ان تحقیقات کا خلاصہ ایک مقالے کی صورت میں شائع کیا ہے۔ اس مقالے کا عنوان بامعنی طور پر یہ ہے ۔ مالتھس جھوٹا پیغمبر : Malthus: The False Prophet مقالہ نگار جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں : It is the $150^{\text{th}}$ anniversary of Malthus's death and his grim predictions have not yet come true. The world's population has doubled and redoubled in a geometrical progression as he fore saw. only slightly checked by wars and other catastrophes, and now stands at about eight times the total when he wrote. But food production has more than kept pace and the present generation of humanity is on average the best fed in history. (Hindustan Times, $28^{\text{th}}$ Dec 1984) مالتھس کی موت کو اب 150 سال گزر چکے ہیں اور اس کی سنگین پیش گوئیاں ابھی تک پوری نہیں ہوئیں۔ دنیا کی آبادی جیومیٹری کے حساب سے دوگنی اور چوگنی ہو گئی جیسا کہ اس نے کہا تھا، اس میں جنگوں اور حوادث کی وجہ سے بس تھوڑا سا فرق پڑا ہے۔ جب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader