Urdu book · عظمتِ قرآن

قانونِ فطرت کی مثال

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

مالتھس نے اپنی کتاب لکھی تھی اس وقت کی آبادی کے مقابلے میں آج کی دنیا کی آبادی تقریباً آٹھ گنا ہو چکی ہے۔ مگر غذائی پیداوار بھی کچھ اضافہ کے ساتھ ساتھ قدم بقدم چلتی رہی ہے۔ اور انسان کی موجودہ نسل کو اوسط طور پر تاریخ کی سب سے بہتر غذا مل رہی ہے۔(ہندوستان ٹائمس 28 دسمبر 1984) رابرٹ مالتھس "روایتی زراعت" کے دور میں پیدا ہوا۔ وہ اس کا اندازہ نہ کر سکا کہ جلد ہی "سائنٹفک زراعت" کا دور آنے والا ہے جس کے بعد پیداوار میں غیر معمولی اضافہ کرنا ممکن ہو جائے گا۔ پچھلے ڈیڑھ سو سال میں زراعت کے طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں ہوئی ہیں اب ایسے منتخب بیج بوئے جاتے ہیں جو زیادہ فصل دینے والے ہوں۔ یہی معاملہ موویشیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ کھیتوں کو زرخیز کرنے کے مزید طریقے دریافت ہو گئے ہیں۔ نئی نئی کھادیں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے لگی ہیں۔ مشین کی مدد سے ان مقامات پر کھیتی ہونے لگی ہے جہاں پہلے کھیتی کرنا نا ممکن نظر آتا تھا۔ آج ترقی یافتہ ملکوں میں کسانوں کی تعداد میں 90 فی صد تک کمی کرنے کے باوجود زرعی پیداوار کو دس گنا تک بڑھا لیا گیا ہے، وغیرہ۔ تیسری دنیا (غیر ترقی یافتہ ممالک) کا جورقبہ ہے اس کے لحاظ سے اس میں 33 بلین انسانوں کی آباد کاری کی گنجائش ہے جبکہ اس کی موجودہ آبادی صرف 3 بلین ہے۔ تیسری دنیا امکانی طور پر اپنی موجودہ آبادی کی دس گنا تعداد کو خوراک مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) نے اندازہ لگایا ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک کی آبادی اگر بے قید طور پر بڑھتی رہے اور 2000ء میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page