عظمتِ قرآن
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
چار بلین سے زیادہ ہو جائے تب بھی کوئی خطرہ کی بات نہیں۔ کیونکہ اندازہ کے مطابق، اس وقت جو آبادی ہو گی اس سے ڈیڑھ گنا آبادی کو خوراک مہیا کرنے کے ذرائع پھر بھی تیسری دنیا کے علاقے میں موجود ہوں گے۔ خوراک میں یہ اضافہ جنگلوں کو کاٹے بغیر ممکن ہو سکے گا۔ اس لیے حقیقت یہ ہے کہ نہ تو عالمی سطح پر کسی غذائی بحران کا کوئی حقیقی اندیشہ ہے اور نہ علاقائی سطح پر۔ مسٹر گوائن ڈائر نے اپنی رپورٹ ان الفاظ پر ختم کی ہے: Malthus was wrong. We are not doomed to breed مالتھس غلطی پر تھا، ہمارے لیے یہ مقدر نہیں کہ ہماری اگلی نسلیں قحط میں پیدا ہوں۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مالتھس کی کتاب "اصول آبادی" انسانی ذہن کی پیداوار تھی جو زبان و مکان کے اندر رہ کر سوچتا ہے۔ اس کے برعکس قرآن ایک ایسے ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے جو زمان و مکان سے بلند ہو کر سوچنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہی فرق اس بات کا سبب ہے کہ مالتھس کا کلام خارجی حقیقت سے ٹکرا گیا اور قرآن آخری حد تک خارجی حقیقتوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ قرآن کے بیان اور خارجی واقعہ میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ کتب مقدسہ کی مثال بنی اسرائیل حضرت یوسف کے زمانہ میں 20 ویں صدی قبل مسیح میں مصر میں داخل ہوئے اور حضرت موسیٰ کے زمانے میں تیر ھویں صدی قبل مسیح میں مصر سے نکل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader