Urdu book · عظمتِ قرآن

کتب مقدسہ کی مثال

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

کر صحرائے سینا میں گئے۔ یہ دونوں واقعات بائبل میں بھی مذکور ہیں اور قرآن میں بھی۔ مگر قرآن کے بیانات خارجی تاریخ سے کامل مطابقت رکھتے ہیں۔ جب کہ بائبل میں کئی باتیں ایسی ہیں جو خارجی تاریخی واقعات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ چنانچہ بائبل کے معتقدین کے لیے یہ مسئلہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ بائبل کے بیان کو لیں یا تاریخ کے بیان کو، کیونکہ دونوں کو بیک وقت لینا ممکن نہیں ہے۔ 12 جنوری 1985ء کو نئی دہلی کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز (تغلق آباد) میں اجتماع تھا۔ اس اجتماع کے مقرر مسٹر عذرا کولٹ (1914- Ezra Kolet 1992) تھے، جو ہندوستان میں آباد یہودیوں کی مجلس (Council of Indian )Jewry کے صدر ہیں۔ تقریر کا عنوان تھا: What is Judaism? یہودی مقرر نے اپنی تقریر میں قدرتی طور پر یہودیوں کی تاریخ بیان کی۔ انہوں نے مصر میں ان کے جانے اور پھر وہاں سے نکلنے کا بھی تذکرہ کیا۔ اس سلسلے میں حضرت یوسف ؑ اور حضرت موسیٰ کا ذکر آیا تو انہوں نے حضرت یوسف کے ہم عصر مصری بادشاہ کو بھی فرعون کہا اور حضرت موسیٰ کے ہم عصر مصری بادشاہ کو بھی فرعون بتایا۔ ہر صاحبِ علم جانتا ہے کہ یہ بات تاریخی اعتبار سے غلط ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ "فرعون" نام کے بادشاہ صرف بعد کو حضرت موسیٰ کے زمانے میں ہوئے۔ اس سے پہلے حضرت یوسف کے زمانے میں دوسرے لوگ مصر کے حکمران تھے۔ حضرت یوسف جس زمانے میں مصر میں داخل ہوئے اس زمانے میں وہاں ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page