کتب مقدسہ کی مثال
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگوں کی حکومت تھی جن کو تاریخ میں چرواہے بادشاہ (Hyksos Kings) کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ عرب نسل سے تعلق رکھتے تھے اور باہر سے آکر مصر پر قابض ہو گئے تھے۔ یہ خاندان دو ہزار سال قبل مسیح سے لے کر پندرہویں صدی قبل مسیح کے آخر تک مصر میں حکمران رہا۔ اس کے بعد مصر میں غیر ملکی حکمرانوں کے خلاف بغاوت ہوئی اور ہکسوس کی حکومت ختم کر دی گئی۔ اس کے بعد مصر میں ملک والوں کی حکومت قائم ہوئی۔ اس وقت جس خاندان کو مصر کی بادشاہی ملی اس نے اپنے حکمرانوں کے لیے فرعون کا لقب پسند کیا۔ فرعون کے لفظی معنی سورج دیوتا کی اولاد کے ہیں۔ اس زمانے میں مصر کے لوگ سورج کو پوجتے تھے۔ چنانچہ حکمرانوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ سورج دیوتا کا مظہر ہیں۔ تا کہ مصریوں کے اوپر اپنا حق حکومت ثابت کیا جا سکے۔ مسٹر عذرا کولٹ نے جو کچھ کیا وہ مجبور تھے کہ ویسا ہی کریں۔ کیونکہ بائبل میں ایسا ہی لکھا ہوا ہے۔ بائبل حضرت یوسف کے ہم زمانہ مصری بادشاہ کو بھی فرعون کہتی ہے۔ اور حضرت موسیٰ کے ہم زمانہ مصری بادشاہ کو بھی فرعون کہتی ہے۔ مسٹر عذرا کولٹ یا تو بائبل کو لے سکتے تھے یا تاریخ کو۔ دونوں کو ساتھ لینا ممکن نہ تھا۔ انہوں نے یہودی کو نسل کا صدر ہونے کی حیثیت سے تاریخ کو چھوڑا اور بائبل کو اختیار کر لیا۔ مگر قرآن اس قسم کے اختلاف بیانی سے خالی ہے۔ اس لیے حاملین قرآن کے لیے یہ مسئلہ نہیں کہ قرآن کو لینے کے لیے انہیں تاریخی حقیقت کو چھوڑنا پڑے۔ قرآن کے زمانہ نزول میں یہ تاریخی واقعات لوگوں کو معلوم نہ تھے۔ یہ تاریخ ابھی تک قدیم آثار کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader