Urdu book · عظمتِ قرآن

کتب مقدسہ کی مثال

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

صورت میں زمین کے نیچے دفن تھی جن کو بہت بعد کو زمین کی کھدائی سے برآمد کیا گیا۔ اور ان کی بنیاد پر مصر کی تاریخ مرتب کی گئی۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن میں حضرت یوسف کے ہم زمانہ مصری بادشاہ کا ذکر آتا ہے تو قرآن اس کے لیے ملک مصر (مصر کا بادشاہ) کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ اور حضرت موسیٰ کے ہم زمانہ مصری بادشاہ کا ذکر آتا ہے تو وہ اس کو بار بار فرعون کہتا ہے۔ اس طرح قرآن کا بیان خارجی تاریخی حقیقت کے عین مطابق ٹھہرتا ہے۔ جب کہ بائبل کا بیان خارجی تاریخی حقیقت سے ٹکرارہا ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ قرآن کا مصنف ایک ایسا مصنف ہے جو انسانی معلومات کے ماورا تمام حقیقتوں کو براہ راست دیکھ رہا ہے۔ تاریخ کی مثال نظریہ ارتقاء کے مطابق انسان اور حیوان دونوں ایک مشترک مورث اعلیٰ سے تعلق رکھتے ہیں۔ حیوانات کی ایک نسل ترقی کرتے کرتے بندر (چمپینزی) تک پہنچی۔ اور بندر کی یہ نسل مزید ترقی کرتے کرتے انسان بن گئی۔ اس سلسلے میں ایک سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعہ ہے تو حیوان اور انسان کی درمیانی کڑیاں کہاں ہیں۔ یعنی وہ انواع کون سی ہیں جو ابھی ارتقاء کے درمیانی سفر میں تھیں اور اس بنا پر ان کے اندر کچھ حیوانی پہلو تھے اور کچھ انسانی۔ اگرچہ حقیقی طور پر بھی ایسی کوئی درمیانی نوع دریافت نہیں ہوئی ہے۔ تاہم علماء ارتقاء کو یقین ہے کہ ایسی انواع گزری ہیں۔ البتہ ان کا سراغ انہیں ابھی تک نہیں ملا ہے۔ ان مفروضہ کڑیوں کو غلط طور پر گم شدہ کڑیوں (missing links) کا نام دیا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page