کتب مقدسہ کی مثال
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
1912ء میں لندن کے اخبارات نے جو پر جوش طور پر یہ خبر دی کہ بندر اور انسان کے درمیان کی ایک گمشدہ کڑی دریافت ہو گئی ہے۔ یہ وہی کڑی ہے جس کو ارتقاء کی تاریخ میں پلٹ ڈاؤن انسان (Piltdown Man) کہا جاتا ہے۔ اس کی حقیقت یہ تھی کہ لندن کے برٹش میوزیم کو قدیم زمانے کا ایک جبڑا ملا جس کا ڈھانچہ بندر جیسا تھا مگر اس کا دانت انسان کے دانت سے مشابہ تھا۔ اس ہڈی کے ٹکڑے کی بنیاد پر ایک پوری تصویر بنائی گئی جو دیکھنے والوں کو بندر نما انسان یا انسان نما بندر دکھائی دیتی تھی۔ اس کو پلٹ ڈاؤن انسان کا نام دیا گیا۔ کیوں کہ وہ پلٹ ڈاؤن نامی مقام سے حاصل ہوا تھا۔ پلٹ ڈاؤن انسان کو تیزی سے مقبولیت حاصل ہوئی۔ وہ باقاعدہ طور پر نصاب کی کتابوں میں شامل کر لیا گیا۔ مثال کے طور پر آر ایس لل (R.S.Lull) کی کتاب عضویاتی ارتقاء (Organic Evolution) میں۔ بڑے بڑے علماء و مفکرین نے اس کو جدید انسان کی علمی فتوحات میں شمار کیا۔ مثلاً ایچ جی ویلز (1946-1866) نے اپنی کتاب ، تاریخ کا خاکہ (The Outline of History) میں ، اور برٹرینڈ رسل (1970-1872) نے اپنی کتاب ، مغربی فلسفہ کا تاریخ (A History of Western Philosophy) میں۔ تاریخ اور حیاتیات کی کتابوں میں پلٹ ڈاؤن انسان کا ذکر اس طرح کیا جائے لگ جیسی کہ وہ ایک مسلمہ حقیقت ہو۔ تقریباً نصف صدی تک جدید علماء اس "عظیم دریافت" سے مسحور رہے۔ یہاں تک کہ 1953ء میں بعض علماء کو شبہ ہوا۔ انہوں نے برٹش میوزیم کے آہنی فائر پروف بکس سے مذکورہ جبڑا نکالا۔ اس کو سائنسی طریقے سے جانچا۔ تمام متعلق پہلوؤں سے اس کی تحقیق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader