فرعون موسیٰ
Urdu book, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ نزولِ قرآن کے وقت اس فرعون کا ذکر صرف بابل کے محفوظات میں تھا۔ اس میں بھی صرف یہ لکھا ہوا تھا کہ "خداوند نے سمندر کے بیچ ہی میں مصریوں کو تہ و بالا کر دیا اور فرعون کے سارے لشکر کو سمندر میں غرق کر دیا" (خروج، 14:28)۔ اس وقت قرآن نے حیرت انگیز طور پر یہ اعلان کیا کہ فرعون کا جسم محفوظ ہے اور وہ دنیا والوں کے لیے سبق بنے گا : فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً (10:92)۔ آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی ہو۔ قرآن میں جب یہ آیت اتری تو وہ نہایت عجیب تھی۔ اس وقت کسی کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ فرعون کا جسم کہیں محفوظ حالت میں موجود ہے۔ اس آیت کے نزول پر اسی حالت میں تقریباً چودہ سو سال گزر گئے۔ پروفیسر لاریٹ (1859-1946 Victor Loret) پہلا شخص ہے جس نے 1898ء میں مصر کے ایک قدیم مقبرہ میں داخل ہو کر دریافت کیا کہ یہاں مذکورہ فرعون کی لاش ممِی کی ہوئی موجود ہے۔ 8 جولائی 1907ء کو الیت اسمتھ ( Sir 1871-1937 Grafton Elliot Smith) نے اس لاش کے اوپر لپٹی ہوئی چادر کو ہٹایا۔ اس نے اس کی باقاعدہ سائنسی تحقیق کی اور پھر 1912ء میں ایک کتاب شائع کی جس کا نام ہے - شاہی ممیاں : The Royal Mummies, 1912, 118 pages اس سے ثابت ہو گیا کہ یہ ممی کی ہوئی لاش اسی فرعون کی ہے جو تین ہزار سال پہلے حضرت موسیٰ کے زمانے میں غرق کیا گیا تھا۔ ایک مغربی مفکر کے الفاظ میں :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader