عظمتِ قرآن
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
گیا۔ دوسری طرف موجودہ زمانے کے علماء سائنس نے اعلان کیا کہ پلٹ ڈاؤن کے مقام پر انہوں نے ایک ڈھانچہ دریافت کیا ہے، جو قدیم انسان کے جسم کا ایک حصہ ہے۔ اور اگلی معلومات کے تحت وہ بالکل بے بنیاد ثابت ہو گیا۔ کیا اس کے بعد بھی اس میں کوئی شبہ باقی رہتا ہے کہ قرآن ایک خدائی کتاب ہے۔ وہ عام انسانی تصنیفات کی طرح کوئی انسانی تصنیف نہیں۔ علم الحیات کی مثال قدیم زمانے میں جب کہ موجودہ سائنسی مشاہدات سامنے نہیں آئے تھے، ساری دنیا میں توہماتی خیالات پھیلے ہوئے تھے۔ لوگوں نے بلا تحقیق عجیب عجیب نظریات قائم کر لیے تھے۔ یہ نظریات دوبارہ وقت کی کتابوں میں ظاہر ہوتے تھے۔ جو شخص بھی اس زمانے میں کوئی کتاب لکھتا تو ماحول کے زیر اثر وہ ان خیالات کو بھی دہرانے لگتا تھا۔ مثال کے طور پر ارسطو (322-384 ق م) نے ایک موقع پر پیٹ میں پرورش پانے والے بچوں کا ذکر کیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ وقت کے روایتی فکر کے مطابق یہ کہتا ہے کہ پیٹ کے بچوں کی صحت کا تعلق ہواؤں سے ہے۔ ارسطو کے اس خیال کا مذاق اڑاتے ہوئے بر ٹینڈرسل نے لکھا ہے: He said that children will be healthier if conceived when the wind is in the north. One gathers that the two Mrs Aristotles both had to run out and look at the weathercock every evening before going to bed. (The Impact of Science on Society, 1953, p. 7)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader