علم الحیات کی مثال
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
ارسطو نے کہا کہ بچے زیادہ تندرست ہوں گے اگر شمالی رُخ پر ہوا چلنے کے وقت ان کا حمل قرار پائے۔ ایک شخص اس سے قیاس کر سکتا ہے کہ ارسطو کی دونوں بیویاں ہر شام کو بستر پر جانے سے پہلے دوڑ کر باہر جاتی ہوں گی اور دیکھتی ہوں گی کہ ہوا کا رُخ کس سمت میں ہے۔ قرآن اسی قدیم زمانے میں اُترا۔ اس میں علم کی مختلف شاخوں سے متعلق کثرت سے حوالے موجود ہیں، مگر قرآن میں کوئی ایک بھی مثال نہیں ملتی جس میں وقت کے روایتی خیالات کا انعکاس پایا جاتا ہو۔ اجسام فلکی کی گردش قرآن (36:40 ; 21:33) میں سورج اور چاند کا ذکر کر کے ارشاد ہوا ہے کہ سب ایک ایک دائرہ میں تیر رہے ہیں (وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ)۔ ڈاکٹر مورس بوکائے نے ان آیات پر تفصیلی کلام کیا ہے اور دکھایا ہے کہ یہاں فلک سے وہی چیز مراد ہے جس کو موجودہ زمانہ میں مدار (Orbit) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: It is shown that the sun move moves in an orbit, but no indication is given as to what this orbit might be in relation to the Earth. At the time of the Qur'anic Revelation, it was thought that the Sun moved while the Earth stood still. This was the system of geocentrism that had held sway since the time of Ptolemy, second century B.C., and was to continue to do so untill Copernicus in the sixteenth century A.D. Although people supported this concept at the time of Muhammad,

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader