نیوٹن کا نظریہ نور
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
نیوٹن کا نظریہ نور انسان جب بھی کسی مسئلہ پر کلام کرتا ہے تو فوراً ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ حال میں بول رہا ہے۔ اسے مستقبل کی کوئی خبر نہیں۔ کوئی انسان آئندہ ظاہر ہونے والی حقیقتوں کو نہیں جانتا اس لیے وہ اپنے کلام میں ان کی رعایت بھی نہیں کر سکتا۔ یہ ایسا معیار ہے جس پر آدمی ہمیشہ ناکام ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، قرآن کو دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا مصنف ایک ایسی ہستی ہے جس کی نظر ماضی سے مستقبل تک یکساں طور پر پھیلی ہوئی ہے۔ وہ آج کے معلوم واقعات کو بھی جانتا ہے اور ان واقعات کو بھی جو کل انسان کے علم میں آئیں گے۔ مثال کے طور پر نیوٹن (1727-1642) نے روشنی کے بارے میں نظریہ قائم کیا کہ یہ چھوٹے چھوٹے روشن ذرات ہیں جو اپنے منبع سے نکل کر فضا میں اڑتے ہیں۔ اس نظریہ کو سائنس کی تاریخ میں روشنی کا ذراتی نظریہ (Corpuscular theory of light) کہا جاتا ہے: A theory of Optics, in which light is treated as a stream of particles. نیوٹن کے غیر معمولی اثرات کے تحت یہ نظریہ 1820 تک علمی دنیا پر چھایا رہا۔ اس کے بعد اس کو زوال شروع ہوا۔ مختلف سائنس دانوں کی تحقیقات، خاص طور پر فوٹان (Photons) کے عمل کی دریافت نے روشنی کے ذراتی نظریہ کو ختم کر دیا۔ پروفیسر ینگ (اور دوسرے سائنس دانوں) کی تحقیق نے علماء کو مطمئن کر دیا کہ روشنی بنیادی طور پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader