Urdu book · عظمتِ قرآن

عظمتِ قرآن

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

موج کی سی خصوصیات رکھتی ہے جو بظاہر نیوٹن کے ذراتی نظریہ کے برعکس ہے: Young's work convinced scientists that light has essential wave characteristics in apparent contradiction to Newton's corpuscular (particle) theory (Encyclopaedia Britanica, 1984, Vol. 19, p. 665) نیوٹن نے اٹھارھویں صدی عیسوی میں اپنا نظریہ پیش کیا اور صرف دو سو سال کے اندر وہ غلط ثابت ہو گیا۔ اس کے برعکس قرآن نے ساتویں صدی عیسوی میں اپنا پیغام دنیا کے سامنے رکھا۔ اور چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اس کی صداقت آج تک مشتبہ نہیں ہوئی۔ کیا اس کے بعد بھی اس یقین کے لیے کسی مزید ثبوت کی ضرورت ہے کہ نیوٹن جیسے لوگوں کا کلام محدود انسانی کلام ہوتا ہے اور قرآن لا محدود ذہن سے نکلا ہوا خدائی کلام ہے۔ قرآن کے بیانات کا ابدی طور پر درست ثابت ہونا ایک انتہائی غیر معمولی صفت ہے جو کسی بھی دوسرے کلام کو حاصل نہیں۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ قرآن خدائی کلام ہے اور بقیہ تمام کلام انسانی کلام۔ کائنات کا آغاز قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا (21:30)۔ کیا منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان و زمین ملے ہوئے تھے پھر ہم نے دونوں کو کھول دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page