کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
عربی زبان تمام زبانوں کے درمیان ایک حیران کن استثنا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایک زبان کی عمر پانچ سو سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ تقریباً پانچ سو سال میں ایک زبان اتنی زیادہ بدل جاتی ہے کہ اگلی نسل کے لوگوں کے لیے پچھلے لوگوں کا کلام سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جافرے چاسر (1340-1402) اور ولیم شیکسپیئر (1616-1564) انگریزی زبان کے شاعر اور ادیب تھے۔ مگر آج کا ایک عام انگریزی داں ان کو پڑھنا چاہے تو اس کو انہیں ترجمہ کر کے پڑھنا پڑے گا۔ چاسر اور شیکسپیئر کا کلام جدید انگریزی نصاب میں ترجمہ کر کے پڑھایا جاتا ہے۔ تقریباً ویسے ہی جیسے غیر زبان کی کتابیں ترجمہ کر کے پڑھائی جاتی ہیں۔ مگر عربی زبان کا معاملہ استثنائی طور پر اس سے مختلف ہے۔ عربی زبان پچھلے ڈیڑھ ہزار سال سے یکساں حالت پر باقی ہے۔ اس کے الفاظ اور اسلوب میں یقیناً ارتقاء ہوا ہے۔ مگر یہ ارتقاء اس طرح ہوا ہے کہ الفاظ اپنے ابتدائی معنی کو بدستور باقی رکھے ہوئے ہیں۔ قدیم عرب کا کوئی شخص اگر آج دوبارہ زندہ ہو تو آج کے عربوں میں بھی وہ اسی طرح بولا اور سمجھا جائے گا۔ جس طرح چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کے عرب میں وہ بولا اور سمجھا جاتا تھا۔ یہ سراسر قرآن کا معجزہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے عربی زبان کو پکڑ رکھا ہے، تاکہ جس طرح قرآن کو قیامت تک باقی رہنا ہے اسی طرح عربی زبان بھی زندہ اور قابل فہم حالت میں قیامت تک باقی رہے۔ یہ کتاب کبھی "کلاسیکل لٹریچر" کی الماری میں نہ جانے پائے وہ ہمیشہ لوگوں کے درمیان پڑھی اور سمجھی جاتی رہے۔ یہی معاملہ علوم کا بھی ہے۔ یہاں بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے علوم کو پکڑ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader