کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
رکھا ہے۔ وہ علوم کو پکڑ کر بیٹھ گیا ہے تا کہ قرآن نے کسی معاملہ میں جو کچھ کہہ دیا ہے وہی ہمیشہ حرفِ آخر کی حیثیت سے باقی رہے۔ چنانچہ بے شمار علمی ترقیوں کے باوجود علوم بالآخر وہیں باقی رہتے ہیں یا وہیں لوٹ آتے ہیں جہاں قرآن نے اول دن اس کورکھ دیا تھا۔ ایک طرف انسانی کلام کی مثال ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی اس معیار پر پورا نہیں اترتا۔ جب کہ قرآن انتہائی بڑے اور گہرے معاملات میں بھی اپنی برتر صداقت کو قائم کیے ہوئے ہے۔ یہاں میں ایک تقابلی مثال دوں گا۔ ارسطو نے اپنے تصوراتی معاشرہ میں عورت کو کم تر درجہ دیا ہے۔ اس کا ثبوت اس کے نزدیک یہ ہے کہ عورت کے منھ میں مرد سے کم دانت ہوتے ہیں۔ برٹرینڈ رسل نے اس کا مذاق اڑایا ہے۔ اس نے اپنی کتاب "سماج پر سائنس کے اثرات" میں ارسطو کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے: Aristotle maintained that women have fewer teeth than men; although he was twice married, it never occured to him to verify this statement by examining his wive's mouths. (The Impact of Science on Society, 1953, p. 7) ارسطو نے دعویٰ کیا کہ عورتوں کے یہاں مردوں سے کم دانت ہوتے ہیں۔ اگرچہ ارسطو کی دو بار شادی ہوئی تھی مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کے منہ کو جانچ کر اس بیان کی تصدیق کرتا۔ ارسطو کا بیان حقیقتِ واقعہ پر حاوی نہ ہو سکا۔ اس کے بر عکس، قرآن کے بیانات حقیقتِ واقعہ کا اس طرح احاطہ کیے ہوئے ہیں کہ دونوں کبھی ایک دوسرے کے خلاف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader