کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں جاتے۔ یہاں میں ایک مثال دوں گا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا اس کائنات کا حاکم مطلق ہے۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق جس طرح چاہتا ہے اسے چلاتا ہے: فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ (85:16) ۔ کر ڈالنے والا جو چاہے۔ يَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ (14:27) ۔ اور اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ پچھلے ہزاروں سال سے خدا کا یہ تصور تسلیم شدہ چلا آ رہا تھا۔ انسان اس کو بلا بحث مانے ہوئے تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں علم کی ترقی ہوئی تو انسان نے یہ نظریہ قائم کر لیا کہ واقعات کے پیچھے معلوم مادی اسباب کے سوا اور کوئی طاقت نہیں۔ تمام واقعات مادی اسباب و علل کے تحت وقوع میں آتے ہیں۔ اور مادی قوانین کے تحت ان کی کامل توجیہ کی جا سکتی ہے۔ مگر بعد کی علمی تحقیقات نے اس مفروضے کو ڈھا دیا۔ اب علم دوبارہ وہیں آ گیا جہاں وہ ابتدا میں ٹھہر اہوا تھا۔ اصولِ تعلیل کی موت کہا جاتا ہے کہ نیوٹن (1727-1642) اپنے باغ میں تھا۔ اس نے سیب کے ایک درخت سے سیب کا پھل گرتے ہوئے دیکھا۔ سیب کا پھل شاخ سے الگ ہو کر نیچے کیوں گرا۔ وہ اوپر کیوں نہیں چلا گیا۔ اس نے سوچا، اس سوال نے آخر کار اس کو یہاں تک پہنچایا کہ زمین میں قوتِ کشش ہے۔ وہ ہر چیز کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پھل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader