کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
درخت سے ٹوٹ کر زمین پر گرتا ہے، وہ اوپر کی طرف نہیں جاتا۔ مگر یہ آدھی حقیقت تھی۔ نیوٹن کو سوچنا چاہیے تھا کہ درخت کا پھل اگر اوپر سے نیچے گرتا ہے تو اسی درخت کا تنا نیچے سے اوپر کی طرف کیوں جاتا ہے۔ ایک ہی درخت ہے۔ اس کی جڑیں زمین کے نیچے کی طرف جا رہی ہیں۔ اس کا پھل ٹوٹتا ہے تو وہ گر کر نیچے آ جاتا ہے۔ مگر اسی درخت کا تنا اور اس کی شاخیں زمین سے اٹھ کر اوپر کی طرف چلی جارہی ہیں۔ درخت کا یہ دو گونہ پہلو نیوٹن کے مفروضہ کی نفی کر رہا تھا۔ تاہم اس معاملے کے ایک پہلو کو چھوڑ کر اس کے دوسرے پہلو کو لے لیا۔ پھر اسی کی روشنی میں اس نے خلا میں پھیلے ہوئے شمسی نظام کے اصول مرتب کیے۔ وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ تمام اجرام میں ایک خاص تناسب سے قوتِ کشش موجود ہوتی ہے۔ یہی کشش سورج اور اس کے گرد گھومنے والے سیاروں کو سنبھالے ہوئے ہے اور اس کو نہایت صحت کے ساتھ متحرک رکھتی ہے۔ یہ طرزِ فکر مزید آگے بڑھا۔ یہاں تک کہ آئن سٹائن (1955-1879) نے اپنے نظریہ اضافیت کے تحت اس کو مزید موئد کیا۔ آئن سٹائن کی تحقیق اگرچہ نیوٹن کے تمام نظریات کی تصدیق نہیں کرتی۔ تاہم نظامِ شمسی کے سلسلے میں اس کے نظریہ کی بنیاد کشش ثقل کے اصول پر ہی قائم ہے۔ Einstein's theory of relativity declares that gravity controls the behaviour of planets, stars, galaxies and the universe itself and does it in a predictable manner. آئن سٹائن کا نظریہ اضافیت کہتا ہے کہ کشش ثقل سیاروں، ستاروں،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader