Urdu book · عظمتِ قرآن

کائنات کا آغاز

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی حرکت معلوم مادی اسباب کے تحت ہو رہی ہے۔ یہ با اختیار خدا کے قرآنی تصور کی گویا تردید تھی مگر علم کا دریا جب آگے بڑھا تو دوبارہ قرآن والی بات غالب آگئی۔ بیسویں صدی میں ایٹمی نظام کے مطالعہ نے بتایا کہ ایٹم کی سطح پر اس کے ذرات کی حرکت کا کوئی معلوم قاعدہ نہیں۔ ایک سائنس دان اس موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھتا ہے: طبیعیات کے قوانین جو زمین پر دریافت کیے گئے ہیں وہ تحکمی گنتیوں پر مشتمل ہیں، جیسے الیکٹران کی مقدارِ مادہ کا تناسب ایک پروٹان کے مقدارِ مادہ سے جو کہ تقریباً 1840 کے مقابلے میں ایک ہوتا ہے۔ کیوں۔ کیا ایک خالق نے تحکمی طور پر انہیں گنتیوں کا انتخاب کر رکھا ہے۔ (سنڈے ٹائمْس، لندن، 4 دسمبر 1977) یہ الفاظ سائنس دان کی زبان سے اس بات کا اعتراف ہیں کہ کائنات انسانی علم کے احاطہ میں نہیں آتی۔ کائنات ایک قادرِ مطلق خدا کی مرضی کا ظہور ہے۔ اور خدا کی مرضی کے تصور کے تحت ہی اس کی واقعی توجیہ کی جاسکتی ہے۔ 1 یہ مقالہ قرآنی سیمینار (لاہور) میں 26 مارچ 1985 کو پڑھ کر سنایا گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page