Urdu book · عظمتِ قرآن

کائنات کا آغاز

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

حیرت انگیز مجموعہ نظر آتا ہے، جس کے بنانے میں اس کے ارادہ عمل کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے۔ پھر اپنے وجود سے باہر کی دنیا پر نظر کرتا ہے تو اسے ایک نہایت وسیع پھیلی ہوئی کائنات ملتی ہے۔ جس کا وہ احاطہ نہیں کر سکتا۔ جس کو وہ پار نہیں کر سکتا۔ جس کے اندر چھپے ہوئے خزانوں کو وہ شمار نہیں کر سکتا۔ یہ سب کیا ہے اور کیوں ہے؟ یہ دنیا کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں جا کر ختم ہوگی؟ اس تمام ہست و بود کا مقصد کیا ہے؟ وہ اپنے آپ کو ان چیزوں کے بارے میں بالکل نا واقف پاتا ہے۔ انسان کو آنکھ دی گئی ہے لیکن وہ آنکھ ایسی ہے جو کسی چیز کے صرف ظاہر کو دیکھ سکتی ہے۔ اس کے پاس عقل ہے مگر عقل کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ اسے خود اپنی خبر نہیں۔ آج تک انسان یہ معلوم نہ کر سکا کہ ذہن انسانی میں خیالات کیوں پیدا ہوتے ہیں اور وہ کس طرح سوچتا ہے۔ ایسی حقیر صلاحیتوں کے ساتھ وہ نہ تو اپنے بارے میں کسی صحیح نتیجہ تک پہنچ سکتا ہے اور نہ کائنات کو سمجھ سکتا ہے۔ اس معمے کو خدا کی کتاب حل کرتی ہے۔ اس آسمان کے نیچے آج قرآن ہی ایک ایسا صحیفہ ہے جو پورے یقین کے ساتھ تمام حقیقتوں کے بارے میں ہم کو قطعی علم بخشتا ہے۔ جن لوگوں نے کتاب الہیٰ کے بغیر کائنات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے ان کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے اندھوں کے پاس ایک ہاتھی کھڑا کر دیا جائے اور پھر ان سے پوچھا جائے کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے، تو جس کا ہاتھ اس کی دُم پر پڑے گا وہ کہے گا کہ ہاتھی ایسا ہوتا ہے جیسے مور چھل، کوئی کان ٹٹول کر کہے گا کہ ہاتھی ایسا ہوتا ہے جیسے سوپ (Soop)، کوئی پیٹھ پر ہاتھ پھیرے گا اور کہے گا کہ ہاتھی ایسا ہوتا ہے جیسے تخت، کوئی پاؤں چھو کر کہے گا کہ ہاتھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page