Urdu book · عظمتِ قرآن

کائنات کا آغاز

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسا ہوتا ہے جیسے کھمبا۔ تمام بے خدا فلسفیوں اور مفکروں کا یہی حال ہے۔ انہوں نے کائنات کے اندر حقیقت کو ٹٹولنے کی کوشش کی مگر علم کی روشنی سے چونکہ وہ محروم تھے۔ اس لیے ان کی تمام کوششوں کا حاصل اس کے سوا کچھ نہ نکلا جیسے کوئی شخص اندھیرے میں بھٹک رہا ہو اور اٹکل کے ذریعے الٹے سیدھے فیصلے کرتا رہے۔ دنیا میں ایسے لوگ گزرے ہیں جو ساری زندگی حقیقت کی تلاش میں رہے۔ مگر حقیقت کو نہ پا کر خودکشی کرلی، اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہوئے ہیں جن کو حقیقت تو نہ ملی۔ مگر صرف اٹکل سے انہوں نے ایک فلسفہ گھڑ لیا۔ میرے نزدیک ان دو قسم کے انسانوں میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ ایک نے اپنی اٹکل کو عقل سمجھا اور اس کو مرتب کر کے دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ اور دوسرے کو اپنی اٹکل پر اطمینان نہیں ہوا۔ اور اس نے عاجز آکر اس حیرت کدہ عالم سے نکل جانے کی کوشش کی اور خود اپنا گلا گھونٹ ڈالا حقیقی علم سے یہ بھی محروم تھے اور وہ بھی۔ راز حیات کا جو اصل راز داں ہے اس کی مدد کے بغیر کوئی شخص اس راز کو نہیں سمجھ سکتا، یقیناً انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی گئی ہے مگر اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے آنکھ۔ یقیناً اس میں دیکھنے کی صلاحیت ہے، مگر کیا خارجی روشنی کے بغیر کوئی آنکھ دیکھ سکتی ہے؟ رات کے وقت ایک اندھیرے کمرے میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی آپ کو کچھ سجھائی نہیں دیتا مگر جب بجلی کا بلب روشن کر دیا جائے تو ہر چیز صاف نظر آنے لگتی ہے۔ اسی طرح وحی الہی عقل کی روشنی ہے۔ اس روشنی کے بغیر ہم اشیاء کی حقیقت کو نہیں پاسکتے۔ ایک صاحب سے ایک مرتبہ میری گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا، یہ بات کہی جاتی ہے کہ علم اس کا نام نہیں ہے کہ آدمی بہت سی کتابیں پڑھے ہوئے ہو اور مدرسوں اور کالجوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page