Urdu book · عظمتِ قرآن

کائنات کا آغاز

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

ملکیتی نظام کی پیدا وار ہے۔ اشتراکی سماج میں اس قسم کی چیزیں ختم ہو جائیں گی"۔ میں نے صاحب موصوف سے پوچھا اب بتائیے کہ کارل مارکس کا یہ خیال صحیح تھا؟ انہوں نے کہا ہر گز نہیں آخرت کی باز پرس کے سوا دنیا میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو آدمی کو ظلم اور خود غرضی سے پاک کر سکے۔ میں نے کہا پھر علم والا کون ہوا، آپ یا کارل مارکس؟ جس کے خود ساختہ نظریہ کا نتیجہ یہ ہے کہ انسانیت پہلے سے بھی زیادہ ظلم و ستم کا شکار ہو رہی ہے۔ کیونکہ زار اور سرمایہ دار پہلے دو الگ الگ وجود تھے اور اب اشتراکی نظام میں جو زار ہے وہی سرمایہ دار بھی ہے۔ تقریباً یہی کیفیت ان تمام فلسفیوں کی ہے جنہوں نے خدا کے بغیر کائنات کا معماً حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے خیالات دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اتنے بڑے بڑے لوگ کیسی بچوں سی باتیں کرتے ہیں۔ گویا اندھوں کے مجمع میں ایک ہاتھ ہے جس کو کوئی مور چھل بتاتا ہے، کوئی سوپ(Soop)، کوئی تخت کہتا ہے اور کوئی کھمبا۔ اگر کتاب الہی کی روشنی میں زندگی اور کائنات کا مطالعہ کیا جائے تو ہر چیز بالکل صاف صاف اپنی اصل شکل میں نظر آنے لگتی ہے اور ایک معمولی آدمی کو بھی اشیاء کی حقیقت سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی وہ پہلی نظر میں اصل حقیقت تک پہنچ جاتا ہے، مگر جو اس علم سے محروم ہے اس کے لیے یہ دنیا ایک بھول بھلیاں ہے جس میں وہ بھٹک رہا ہے۔ انسانی علوم ہم کو بہت کچھ دیتے ہیں۔ مگر زیادہ سے زیادہ ان کے ذریعہ جو کچھ معلوم ہوتا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ "کائنات کیا ہے"۔ مگر اس کے بارے میں وہ اب تک ایک حرف نہ بتا سکے کہ "جو کچھ ہے وہ کیوں ہے"۔ چند گیسیں، چند دھاتیں اور چند نمکیات کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page