کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
ملنے سے ایک چلتا پھرتا باشعور وجود میں آتا ہے، مٹی میں بیچ ڈال دینے سے ہرے بھرے پھل دار درخت اور پودے نکلتے ہیں۔ محض ایٹم کی تعداد بدل جانے سے بے شمار عناصر بن جاتے ہیں۔ دو گیسوں کے ملنے سے پانی جیسی قیمتی چیز تیار ہو جاتی ہے۔ پانی کے لیے سالمات کی حرکت (Molecular Motion) سے بھاپ کی طاقت پیدا ہوتی ہے جو دیو پیکر انجنوں کو حرکت دیتی ہے۔ ایٹم کے حقیر برقیے جو کسی خورد بین کے ذریعہ دیکھے نہیں جاسکتے، ان کے انتشار سے وہ بے پناہ طاقت پیدا ہوتی ہے جو پہاڑوں کو توڑ ڈالتی ہے۔ "یہ سب ہوتا ہے" بس ہم ان چیزوں کے بارے میں اسی قدر جانتے ہیں۔ مگر "یہ سب کیوں ہو رہا ہے" ، ان کے بارے میں انسانی علوم ہماری کوئی رہنمائی نہیں کرتے۔ "دنیا کے تمام سمندروں کے کنارے ریت کے جتنے ذرے ہیں۔ شاید اسی قدر آسمان میں ستاروں کی تعداد ہے، ان میں کچھ ایسے ستارے ہیں جو زمین سے کسی قدر بڑے ہیں، مگر بیشتر ستارے اس قدر بڑے ہیں کہ ان کے اندر لاکھوں زمینیں رکھی جاسکتی ہیں، اور پھر بھی جگہ بچ رہے گی۔ اور بعض ستارے تو اتنے بڑے ہیں کہ ان کے اندر اربوں زمینیں سما سکتی ہیں۔ یہ کائنات اس قدر وسیع ہے کہ روشنی کی مانند ایک انتہائی تیز اڑنے والا ہوائی جہاز جس کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہو، وہ کائنات کے گرد گھومے تو اس ہوائی جہاز کو کائنات کا پورا چکر لگانے میں تقریباً ایک ارب سال لگیں گے۔ پھر یہ کائنات ٹھہری ہوئی نہیں ہے، بلکہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader