کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر لمحہ اپنے چاروں طرف پھیل رہی ہے۔ اس پھیلنے کی رفتار اتنی تیز ہے کہ 130 کروڑ سال کے بعد کائنات کے تمام فاصلے دگنے ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ہمارا یہ خیالی قسم کا غیر معمولی تیز رفتار ہوائی جہاز بھی کائنات کا چکر کبھی پورا نہیں کر سکتا۔ وہ ہمیشہ اس بڑھتی ہوئی کائنات کے راستہ میں رہے گا۔2 انسانی مطالعہ ہم کو ایک حیرت انگیز کائنات کے سامنے لا کر چھوڑ دیتا ہے، وہ ہم کو نہیں بتاتا کہ اس کی حقیقت کیا ہے، کون ان واقعات کو وجود میں لا رہا ہے، اور وہ کون سا ہاتھ ہے جو خلائے بسیط میں عظیم الشان کُروں کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ تمام باتیں ہم کو قرآن سے ملتی ہیں۔ قرآن ہم کو بتاتا ہے کہ اشیاء کیوں کر وجود میں آئی ہیں، وہ کس طرح قائم ہیں اور مستقبل میں ان کا انجام کیا ہوگا۔ وہ کائنات کے خالق اور مالک کا ہم سے تعارف کراتا ہے، اور اس کی کار فرمائیوں کو ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے۔ قرآن سلطنتِ الہیٰ کا لفظی مشاہدہ ہے۔ ایک چھپا ہوا طاقتور ارادہ جو اس کائنات میں ہر طرف کام کر رہا ہے، قرآن کے صفحات میں وہ ہم کو بالکل محسوس طور پر نظر آتا ہے، وہ ما بعد الطبیعی حقیقتیں جن کو آدمی سر کی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہاتھوں سے چھو کر معلوم کر سکتا ہے، یہ کتاب ان کے بارے میں ہمیں قطعی خبر دیتی ہے۔ اور صرف خبر نہیں دیتی بلکہ لفظوں کے ذریعے اتنے حیرت انگیز طریقہ پر ان کا مرقع (illustration) کھینچتی ہے کہ غیب بالکل شہود معلوم ہونے لگتا ہے۔ یہ کتاب ہم کو صرف یہی نہیں بتاتی کہ "خدا یہ کائنات کی وسعت کے بارے میں آئن سٹائن کا نظریہ ہے مگر یہ صرف ایک "ریاضی داں کا قیاس" ہے، حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک انسان کائنات کی وسعت کو سمجھ نہیں سکا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader