کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
"۔ بلکہ وہ حیرت انگیز طور پر ایک مدبّر کا ئنات کا زندہ تصور سامنے لا کر رکھ دیتی ہے کہ آنے والا دن بالکل نگاہوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے۔ مشہور ہے کہ یونان میں ایک مصور نے انگور کے خوشہ کی تصویر بنائی۔ یہ تصویر اتنی کامیاب تھی کہ چڑیاں اس پر چونچ مارتی تھیں، یہ ایک انسان کا آرٹ تھا۔ پھر قرآن تو خالق کائنات کا آرٹ ہے اس کے کمال فن کا اندازہ کون کر سکتا ہے۔ قرآن مجید کا پہلا فقرہ ہے : الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ (1 : 1)۔ یہ فقرہ نہایت بامعنیٰ ہے۔ اس کے معنی ہیں " شکر ہے اس خدا کا جو تمام دنیا والوں کا مالک و مربی ہے "۔ مالک و مربی اس کو کہتے ہیں جو اپنے ماتحتوں پر گہری نظر رکھے، اور ان کی تمام ضروریات کا سامان فراہم کرے۔ انسان کی ضرورتوں میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اس کو بتایا جائے کہ وہ کیا ہے، کہاں سے آیا اور کہاں جائے گا، اس کا فائدہ کس چیز میں ہے اور نقصان کس چیز میں ہے۔ آدمی کو اگر کسی ایسے آسمانی کرہ میں لے جا کر ڈال دیا جائے جہاں ہوا اور پانی کا وجود نہ ہو تو یہ اس کے لیے اتنا بڑا حادثہ نہ ہو گا جتنا بڑا حادثہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنے آپ کو اس حال میں پائے کہ اپنے اور ماحول کے بارے میں وہ صحیح علم سے بے خبر ہے۔ اللہ اپنی مخلوق پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنا باپ اپنے بیٹے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ ناممکن تھا کہ وہ اپنے بندوں کی اس محتاجی کو دیکھتا اور اسے پورا نہ کرتا۔ چنانچہ اس نے وحی کے ذریعے وہ ضروری علم بھیجا جو انسان کو اپنی معرفت حاصل کرنے کے لیے درکار تھا، اور ایک انسانی زبان جس کی متحمل ہو سکتی تھی۔ یہ خالق کا اپنے بندوں پر سب سے بڑا احسان ہے، جو بندہ اپنی حیثیت کو پہچانتا ہو اور جس کو یہ احساس ہو کہ وہ حقیقت کا علم جاننے کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader