کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے اپنے خالق کا کس قدر محتاج ہے، اس کا دل خدا کی اس عنایت کو دیکھ کر شکر و سپاس کے جذبے سے لبریز ہو جائے گا اور اس کتاب کو پا کر وہ بے اختیار کہہ اٹھے گا، الحمد للہ رب العالمین۔ یہ بندے کی زبان سے ادا ہونے والا کلمہ ہے جو خدا کی طرف سے القا کیا گیا ہے۔ بندہ یہ جاننے کے لیے بھی کہ وہ کس طرح اپنے آقا کی بندگی کرے، آقا کی رہ نمائی کا محتاج ہے، آدمی کے اندر فطری طور پر بندگی کے جذبات امنڈتے ہیں مگر وہ نہیں جانتا کہ ان جذبات کو کس طرح ظاہر کرے۔ قرآن انہیں متعین کرتا ہے اور ان کے لیے الفاظ مہیا کرتا ہے۔ قرآن کی دعائیں اس سلسلے میں بہترین عطیہ ہیں۔ قرآن معروف معنوں میں کوئی کتاب نہیں، زیادہ صحیح معنوں میں وہ دعوت اسلامی کی آخری جدوجہد کی سرگزشت ہے۔ اللہ تعالیٰ قدیم ترین زمانے سے انسانوں کے لیے حقیقت کا علم اپنے خاص بندوں کے ذریعہ بھیجتا رہا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوئی کہ روئے زمین پر بسنے والوں کے لیے آخری طور پر حقیقت کا علم دے دے۔ اور اس علم کی بنیاد پر ایک باقاعدہ سوسائٹی کی تعمیر بھی کر دے تاکہ وہ قیامت تک تمام نسلِ انسانی کے لیے روشنی اور نمونہ کا کام دے سکے۔ اسی مقصد کے تحت اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں مبعوث فرمایا اور آپ کے ذمہ یہ خدمت سپرد کی کہ آپ عرب میں اس پیغام حق کی اشاعت کریں اور پھر جو لوگ آپ کے اس پیغام سے متاثر ہوں ان کے ذمہ یہ کام سپرد ہو کہ وہ تمام دنیا میں اس پیغام کو پھیلائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علم حق کو پھیلانے اور اس کی بنیاد پر ایک انسانی معاشرہ قائم کرنے کی جو تحریک عرب میں پھیلائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader