کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
آج دنیا میں اربوں اور کھربوں کی تعداد میں کتابیں چھپ کر شائع ہو چکی ہیں۔ ایک ایک فن اور ہر فن کے مختلف شعبوں پر اتنی کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئی ہیں کہ آدمی ساری عمر ان کا مطالعہ کرتا رہے، مگر قرآن ایک ایسی کتاب ہے کہ دنیا میں تمام کتابوں کا مطالعہ بھی آدمی کو اس سے بے نیاز نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری کتابوں کے مطالعہ سے کوئی شخص صحیح معنوں میں اسی وقت مستفید ہو سکتا ہے، جب اسے قرآن کے ذریعہ وہ بصیرت حاصل ہو چکی ہو جو ہر معاملہ میں فیصلے تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے۔ بحری جہازوں کے لیے ناپید کنار سمندر میں قطب نما کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح زندگی کے الجھے ہوئے مسائل میں صحیح رائے پر پہنچنے کے لیے وحی الہی کی ضرورت ہے، جو اس روشنی سے بہرہ مند ہو گاوہ ہر گہرائی سے اپنی زندگی کی کشتی پار اتارے گا اور جو اس روشنی سے محروم ہوگا وہ زندگی کے مسائل میں الجھ کر رہ جائے گا اور کسی صحیح نتیجہ تک نہ پہنچ سکے گا۔ قرآن فطرت کے اس خلا کو پُر کرتا ہے جس نے تاریخ کے ہر دور میں انسان کو بے چین کر رکھا ہے۔ روسو نے کہا تھا کہ : " انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر میں ہر طرف اس کو زنجیر میں جکڑا ہوا پاتا ہوں " میں کہوں گا کہ انسان فطرتاً بندہ پیدا ہوا ہے، مگر وہ مصنوعی طور پر آقا بننا چاہتا ہے ۔ انسان بظاہر ایک مکمل وجود معلوم ہوتا ہے مگر در حقیقت وہ سراپا محتاج ہے۔ جس طرح اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے اس کو ہوا، پانی، اور دوسری زمینی پیداوار کی ضرورت ہے، اسی طرح اس کو ذہنی زندگی کے لیے بھی ایک خارجی سہارے کی ضرورت ہے۔ انسان فطرتاً ایک ایسا سہارا چاہتا ہے جس پر وہ مشکل حالات میں اعتماد کر سکے۔ اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader